تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 65

تحریک وقف نو — Page 52

95 94 نے زبانی طور پر ان کو اعلیٰ اخلاق سکھانے کی کوشش کی۔تم نے زبانی طور پر ان کو اعلیٰ کردار سمجھانے کی کوشش کی۔تم نے کہا کہ اس طرح خلط ملط نوجوانوں سے ٹھیک نہیں۔اس طرح تمہیں یہ حرکتیں کرنا مناسب نہیں ہیں لیکن تمہاری زندگیوں میں اندرونی طور پر انہوں نے یہی باتیں دیکھیں جن کے اوپر کچھ طبع تھا کچھ دکھاوے کی چادرمیں پہنچائی گئیں تھیں اور در حقیقت یہ بچے جانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ تم خود ان چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہو اس لئے وہ وہ بنے ہیں جو تمہاری اندرونی تصویر تھی اور تم جو خلا محسوس کر رہے ہو اپنی بیرونی تصویر سے محسوس کر رہے ہو وہ تصویر تم جو دیکھنا چاہتے تھے ان میں جو تمہارے تصور کی دنیا تھی تمہارے عمل کی دنیا بن گئی۔لیکن تمہارے تصور کی دنیا کی کوئی تعبیر نہیں پیدا ہوئی اس لئے تم بظاہر اس کو خلا سمجھ رہے ہو حالانکہ یہ تسلسل ہے۔برائیوں کا تسلسل ہے جس کی چوٹیاں بلند تر ہوتی چلی جارہی ہیں یا اگر گہرائی کی اصطلاحوں میں باتیں کریں تو تعرمذلت کی طرف بڑھتی چلی جارہی ہیں تو جماعت احمدیہ کو اگلی نسلوں کے کردار کی تعمیر میں اس اصول کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا ورنہ وہ ہمیشہ دھوکے میں مبتلا رہیں گے اور اگلی نسلوں سے ان کا اختیار جاتا رہے گا وہ ان کی باتیں نہیں مانیں گے خصوصا" را تضمین نو بچوں پر بہت ہی گہری ذمہ داریاں ہیں یہ پانچ ہزار یا زائد بچے جتنے بھی اس دور میں پیش ہوئے ہیں انہوں نے انگلی دنیا سنبھالتی ہے اگلی نسلوں کی تربیت کرنی ہے نئے قوموں کے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے اور (دین حق کی زندگی کرتے ہوئے بڑے بڑے مقابلے کرنے ہیں بڑے بڑے معرکے سر کرتے ہیں آپ اگر اس مضمون کو بھول کر عام غفلت کی حالت میں اپنی سابقہ زندگی بسر کرتے چلے جائیں گے تو آئندہ پیدا ہونے والے وا تعین پر آپ کے براثرات مرتب ہو جائیں گے۔اور پھر جماعت جتنا بھی کوشش کرے گی ان کی ایسی اصلاح نہیں کر سکتی۔میں نے دیکھا ہے جامعہ میں جو بد عادتوں والے بچے آتے ہیں لاکھ زور ماریں استاد ان کی بد عادتیں کچھ نہ کچھ مدھم پڑ جاتی ہیں مٹتی نہیں۔بد عادت کو مثانا بہت مشکل کام ہے ہاں اندرونی طور پر بعض لوگوں میں ایک دم تقوی کی حالت پیدا ہو جاتی ہے خدا کا خوف پیدا ہو جاتا ہے تو پھر اس اندرونی طاقت کے ذریعے خدا کے فضل سے اپنی ساری بدیوں کو اتار پھینکتے ہیں لیکن اس کو انقلاب کہا جاتا ہے میں اس وقت ایسے انقلاب کی بات نہیں کر رہا۔میں تربیت کے اصولوں کی بات کر رہا ہوں جہاں تک تربیت کا تعلق ہے آپ نے اگر یہ وا تفین اچھی حالت میں، سنبھی ہوئی طبیعتوں کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش کئے تو انشاء اللہ تعالی اس جوہر قابل سے بہت عظیم انقلابات برپا ہوں گے اور جماعت ان سے بڑے پڑے عظیم فوائد حاصل کر سکے گی لیکن اگر معمولی کھیوں والے بھی آئے تو بعض دفعہ وہ کچھیاں پھر پڑھنی شرع ہو جاتی ہیں۔بعض دیواروں میں رخنے پڑتے ہیں وہ سطحی ہوتے ہیں۔اور انجینئر دیکھتے ہیں کہ کوئی خطرے کی بات نہیں۔۔مگر بعض گھرے ہوتے ہیں۔اور وہ وقت کے ساتھ پھٹنے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر چھتیں بھی ان کی وجہ سے گر جاتی ہیں۔تو بنیادی اخلاقی کمزوریاں ان گہرے رختوں کے مشابہ ہوا کرتی ہیں ان کو اگر ایک دفعہ آپ نے پیدا ہونے دیا تو آئندہ نسلوں کی چھتیں گرا دیں گے۔اس لئے خدا کا خوف کرتے ہوئے استغفار کرتے ہوئے اس مضمون کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کریں اور دل نشین کریں اور اپنے کردار میں ایک پاکیزہ تبدیلی پیدا کریں تاکہ آپ کی یہ پاکیزہ تبدیلی اگلی نسلوں کی اصلاح اور انکی روحانی ترقی کیلئے کھاد کا کام دے اور بنیادوں کا کام دے جس پر عظیم عمارتیں تعمیر ہوں گی۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے (آمین)