تحریک وقف نو — Page 48
87 86 قرآن کریم ان کی زبان میں۔کیونکہ اس سے بہتر اور کوئی لٹریچر میا ہو ہی نہیں سکتا۔دنیا بھر کے لٹریچر میں قرآن سے بہتر کوئی کتاب نہیں اس لئے قرآن کریم میں تو ہم خدا کے فضل سے اس معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں کثرت کے ساتھ شائع ہو رہا ہے اور سٹاک میں بھی موجود ہے لیکن اس کے علاوہ بھی لٹریچر تیار کیا گیا ہے جو متفرق امور سے متعلق ان سے متعارف کروایا جائے تو اس ضمن میں میں آپ کو بتا رہا ہوں، خوشخبری دے رہا ہوں کہ باہر سے دروازے کھلنے شروع ہو گئے ہیں اور دیواریں ٹوٹ رہی ہیں آپ اپنے دروازوں کو کیوں تنگ رکھیں گے۔اگر ان کھلتے ہوئے دروازوں کے مقابل پر آپ نے بھی اپنے دروازے کشادہ نہ کئے اور وسیع تر نہ کرتے چلے گئے تو پھر دین حق) کے نہ پھیلنے کی ذمہ داری آپ پر ہوگی تو پھر آپ خدا کے سامنے ضرور جواب دہ ہوں گے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ دروازے کھلنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے Points Contact زیادہ ہوں یعنی بجائے اس کے کہ ایک مبلغ یا دس یا سو مبلغ یا سودا عین الی اللہ یا ہزار را عین الی اللہ دین حق کیلئے کھلے رستے بن جائیں اور (دین حق) کیلئے لوگوں کے داخل ہونے کیلئے اپنے دلوں کے راستے پیش کریں۔لاکھوں کی ضرورت ہے۔اور ہر جگہ ان رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے اس ضمن میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بارہا کہا ہے ہمیں ان قوموں کی طرف ان ملکوں سے باہر توجہ کرنی چاہئے ملکوں کے جو دروازے کھلیں گے اور کھل رہے ہیں اللہ کے فضل سے ان سے تو ہم جماعتی اور انتظامی سطح پر رابطے کریں گے اور جہاں تک توفیق ہوگی ان رابطوں کو موثر بنائیں گے لیکن جب میں کہتا ہوں کہ ان قوموں کے دروازے کھل رہے ہیں تو مراد یہ ہے کہ ایسے دروازے بھی ہیں جو ان ملکوں سے باہر ہیں کروڑوں چینی ہیں جو چین سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور لاکھوں روسی ہوں گے۔یا مشرقی کمیونسٹ دنیا کے بسنے والے لوگ لکھو کھا ایسے ہیں جو اپنے ملکوں سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں اس لئے جو رجحانات وہاں پیدا ہو رہے ہیں اس سے بڑھ کر رحجانات ان ملکوں سے باہر پیدا ہونے کی عقلی امکانات ہیں پہلے تو جب آپ کسی چین سے تعلق رکھنے والے چینی سے بات کرتے تھے تو یہ خوف اس کو دامن گیر ہو جاتا تھا کہ اگر یہ سچائی بھی ہے اور میں اس کو قبول بھی کر لوں تو میرا ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔ایک روسی سے جب آپ بات کرتے تھے تو رہ خوفزدہ ہو جایا کرتا تھا۔مجھے یاد ہے کالج کے زمانے میں ، پارٹیشن کے معام بعد جب میں نیو ہاسٹل میں رہتا تھا ایک روسی وفد آیا ہوا تھا۔ہم کچھ طلباء ملکر احمد یہ لڑیچ تقسیم کرنے کیلئے ان تک پہنچے روسی لڑ کچھ تو ہمارے پاس نہیں تھا مگر انگریزی اور بعض دوسرے لٹریچر کیونکہ وہ انگریزی جانتے تھے وہ ان کو دیا تو ہم سب نے محسوس کیا کہ وہ شخص خوفزدہ ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی اس کے نائب کے طور پر تھا۔ہو سکتا ہے وہ انیلی جنس کا آدمی ہو کیونکہ ان دنوں میں خصوصیت سے جب روی وند باہر جایا کرتے تھے تو ان کے ساتھ انٹیلی جنس آفیسرز ضروری جایا کرتے تھے۔اب نسبتا" بہت فرق پڑ چکا ہے وہ اس کی طرف دیکھتا تھا اس کی آنکھوں میں خوف تھا اور اس نے معذرت کی کہ نہیں میں قبول نہیں کر سکتک اس کے مقابل پر بہت سے دوسرے تھے جنہوں نے قبول کر لیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے رشین نے یا قبول کیا ہی نہیں تھا یا سرسری سے دلچپسی ایک آدھ چیتے میں کی ہوگی۔مجھے تو یہی یاد ہے۔قبول نہیں کیا اب وہ قبول کرتے ہیں، اب مطالبے کرتے ہیں اب جہاں جہاں برشین ابیسند سے ہمارے دوستوں سے رابطے کئے ہیں انہوں نے گرمی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور ایک ایمبیسند تو نہیں تھے مگر دورہ افریقہ کے دوران ایمبیسی کے ایک سینئر آفیسر تھے یا غالبا" ڈپٹی اسٹیسٹر تھے ان کو پہلے ہی پہنچ چکا