تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 65

تحریک وقف نو — Page 38

67 66 تھا یعنی توجہ سے نہیں سکھایا جاتا تھا۔اسلئے اسکا بھی ایک نقصان بعد میں سامنے آیا۔آج کل جو زواج ہے کہ بول چال سکھائی جا رہی ہے لیکن زبان کے گہرے معانی کی طرف پوری توجہ نہیں کی جاتی اسلئے بہت سے عرب بھی ایسے ہیں اور تجارت کی غرض سے عربی سیکھنے والے بھی ایسے ہیں جو زبان بولنا تو سیکھ گئے ہیں لیکن عربی کی گہرائی سے ناواقف ہیں اور اسکی گرائمر پر عبور نہیں ہے۔پس اپنی واقفین نسلوں کو ان دونوں پہلوؤں سے متوازن تعلیم دیں۔عربی کے بعد اردو بھی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی کامل غلامی میں اس زمانے کا جو امام بنایا گیا ہے اسکا اکثر لٹریچر اردو میں ہے احمدیہ لٹریچر چونکہ خالصتا" قرآن اور حدیث کی تفسیر میں ہے اسلئے عرب پڑھنے والے بھی جب آپکے عربی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔کہ قرآن اور حدیث پر ایک ایسی گری معرفت اس انسان کو حاصل ہے کہ جوان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔جو مادری لحاظ سے عربی زبان سیکھنے اور بولنے والے ہیں۔چنانچہ ہمارے عربی مجلہ التقویٰ میں حضرت اقدس مسیح موعود کے جو اقتباسات شائع ہوتے ہیں۔انکو پڑھ کر بعض غیر احمدی عرب علما کے ایسے عظیم الشان حسین کے مخط ملتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔بعض ان میں سے مفتیوں کے بیٹے ہیں۔اس عظمت کے آدمیوں کے بیٹے ہیں جن کو دین پر عبور ہے اور دین میں معروف مفتی ہیں انکا نام لیتا یہاں مناسب نہیں لیکن انہوں نے مجھے خط لکھا کہ ہم تو حیران رہ گئے ہیں دیکھ کر اور بعض عربوں نے کہا کہ ایسی خوبصورت زبان ہے ایسی دلکش عربی زبان ہے حضرت مسیح موعود کی۔ایک شخص نے کہا میں بہت شوقین ہوں عربی لٹریچر کا مگر آج تک اس عظمت کا لکھنے والا میں نے کوئی عرب نہیں دیکھا۔پس عربی کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود کے اردو لٹریچر کا مطالعہ بھی ضروری ہے اور بچوں کو اتنے معیار کی اردو سکھائی ضروری ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے اردو لٹریچر سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں۔جہاں تک دنیا کی دیگر زبانوں کا تعلق ہے خدا تعالٰی کے فضل سے اب دنیا کے اکثر اہم ممالک میں ایسی احمدی نسلیں تیار ہو رہی ہیں جو مقامی زبان نہایت شستگی کے ساتھ اہل زبان کی طرح بولتی نہیں اور یہاں ہالینڈ میں بھی ایسے بچوں کی کمی نہیں ہے جو باہر سے آنے کے باوجود ہالینڈ کی زبان ہالینڈ کے باشندوں کی طرح نہایت شستگی اور صفائی سے بولنے والے ہیں۔لیکن افسوس یہ ہے کہ انکا اردو کا معیار دیا نہیں رہا۔چنانچہ بعض بچوں سے جب میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ہالینڈش زبان میں تو وہ بہت ترقی کر چکے ہیں لیکن اردو زبان پر عبور خاصا قابل توجہ ہے یعنی عبور حاصل نہیں ہے اور معیار کا خاصہ قابل توجہ ہے پر آئندہ اپنی را تعین نسلوں کو کم از کم تین زبانوں کا ماہر بنانا ہوگا۔عربی اردو اور مقامی زبان۔پھر ہمیں انشاء اللہ آئندہ صدی کے لیے اکثر ممالک میں احمدیت یعنی حقیقی (دین حق کی تعلیم پیش کرنے والے بہت اچھے مبلغ مہیا ہو جائیں گے۔آئندہ جماعت کی ضروریات میں بعض انسانی خلق سے تعلق رکھنے والی ضروریات ہیں جنکا میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اور اب دوبارہ اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں۔پس واقعین بچوں کے اخلاق پر خصوصیت سے توجہ کی ضرورت ہے۔انہیں خوش اخلاق بنانا چاہئے۔ایک تو اخلاق کا لفظ ہے جو زیادہ گہرے فصائل سے تعلق رکھتا ہے اسکے متعلق میں پہلے کئی دفعہ بات کر چکا ہوں لیکن ایک اخلاق کا معنی عرف عام میں انسان کی میل جول کی اس صلاحیت کو کہتے ہیں جس سے وہ دشمن کم بناتا ہے اور دوست زیادہ کوئی بد مزاج انسان اچھا واقف زندگی ثابت نہیں ہو سکتا۔اور کوئی خشک مزاج انسان ملاں تو کہلا سکتا ہے، صحیح معنوں میں روحانی انسان نہیں بن سکتا۔ایک دفعہ ایک واقف زندگی کے متعلق ایک جگہ سے شکایتیں نہیں کہ یہ بد خلق