تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار

by Other Authors

Page 7 of 71

تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 7

نا انس اسلامی سپیرٹ از سر نو پیدا کر دیا جائے تاکہ اُن کی قومیت محفوظ رہے بے شاہ کا سال مسلمانان ہند کی سیاسیات میں ایک نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ یہ پہلا سال ہے جبکہ انہیں ہند وڈنی کے مقابل اپنی جداگانہ ہستی کے تحفظ کا احساس پوری شدت سے پیدا ہوا۔بات یہ ہوئی کہ لارڈ کرزن و اسرائے ہند نے نمبر شام میں بنگال کے وسیع صوبہ کو صوبہ مشرقی اور مغربی دو حصوں میں تقسیم کر دیا اس تقسیم سے مسلمانوں کو صوبہ مشرقی بنگال میں زبر دست اکثریت اور بداری مال ہو گئی اور آئیندہ کے لیے اُن کی سیاسی طاقت وقوت کے ابھرنے کا قیمتی موقعہ میر گی ہندو جو ایشیا انگریز کا سیاسی جانشین بننے کا خواب دیکھ رہے تھے تقسیم بنگال کے فیصلہ سے بھڑک اُٹھے۔اکتوبر شن اللہ کو بنگالی ہندوؤں نے ماتمی جلسے کئے مگر اس دن مسلمانوں نے بجا بجا اظہار مسرت کیا یہ آل انڈیا نیشنل کانگرس کے ہندو لیڈروں نے اجلاس کھنکتہ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے ، لیکن مسلمانوں نے حکومت کے فیصلہ کی پر جوش تائید کی۔بنگالی ہندو یہ نہیں چاہتے تھے کہ سوا دو کروڑ مسلمان اُن کی سیاسی وسماجی غلامی سے آزاد ہو جائیں اور سلمان یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ پھر سے ہندوؤں کے حوالے کر دیئے جائیں، لاہور کے اخبار" ابن رورا نے اُن دنوں ایک فصل نوت میں ہندوؤں کے مظالم اور مسلمانوں کی آل انڈیا نیشنل کانگرس اور اس کی ے بحوالہ ، خیار الحکم تا دیدن ۲۸ نومبر سن ۱۹ صفحه ۱۴ تقسیم بنگال سے متعلق سرکاری اعلان الحکم ، استمہ۔میں بھی چھپا ہوا ہے۔سے اخبار کمر زن گیٹ و نومیر شاه صفی ۱۱ کالم -۲