تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 61
احمدی پروفیسر، ڈارمسٹمین اور نفتہ نویس پاکستانی حدود کے زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کے لیے سرتاپا جہاد بن گئے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت نے امریکہ اور برطانیہ سے نہایت قیمتی باونڈری لٹریچر منگوایا جو بذریعہ ہوائی جہاز ہندوستان پہنچا جس کے ڈاک خرچ پر بھی ہزار روپے سے زائد رقم خرچ کرناپڑی جماعت احمدیہ نے برطانیہ کے ایک ماہر اور ممتاز جغرافیہ دان ڈاکٹر اوسٹر ایچے کے سیلیٹ ( OH-K۔SPATE) کی خدمات بھی حاصل کیں جنہوں نے لندن سے ہند وستان پہنچ که باونڈری کمیشن کے دوران جماعت احمدیہ اورمسلم لیگ کے کے محضر ناموں اور بحث کی تیاری میں ہر ممکن مدد دی اور جو خاص طور مسلم لیگ کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئے۔ڈاکٹر سینیٹ کے تمام اخراجات تنہا جماعت احمدیہ نے برداشت کئے۔H جہاں تک مسلم لیگ کے کہیں کا تعلق ہے اس نازک ترین ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے قائد اعظم کی نظر انتخاب احمدیت کے مایہ ناز فرزند چوہدری محمد ظفر الدخان صاحب پر پڑی جیہنوں نے انتہائی مشکلات اور تیاری کے سخت ترین دقت کے باوجود مسلم اقلیت کے حقوق کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔آپ نے نہ صرف اپنے قلم سے سلم لیگی زعماء کے مشورہ سے محضر نامہ کا مکمل متن تیا ر کیا بنک و در جولائی سے اور جولائی ۱۹۴۶ اینک در بند می کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا نقطہ نگاہ غیر معمولی قابلیت سے نمایاں کر دکھایا۔آپ کی فاضلانہ اور مدیل سخت ریڈ کلف ایوارڈ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔۲۶ باونڈری کمیشن کے اختتام پر جناب حمید نظامی نے اپنی اختیار نوائے وقت لاہور ! k :