تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 60
مردم شماری میں اُن کو مسلمانوں سے الگ کر دیا جائے تو یہ ضلع لار یا غیرمسلم اکثریت کا ضلع قرار پاتا ہے اس لیے اسے مشرقی پنجاب میں آنا چاہیے۔اس تشویش ناک صورت حال کے پیش نظرمسلم لیگ کی ہدایت پر جماعت احمدیہ نے مسلم لیگ کے وقت میں ایک علیحدہ محضر نامہ پیش کیا۔یہ محضر نامه نهایت قیمتی بیش بہا اور مستند معلومات پر مشتمل تاریخی دستاویز ہے جو شائع شدہ ہے جس میں زبر دست دلائل سے یہ ثابت کیا گیا کہ مغربی پنجاب کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ گورداسپور کا ضلع مغربی پنجاب میں شامل ہوتا کہ دریائے بیاس کے اُس طرف جو مشرقی پنجاب کے علاقے ہیں اُن کو پاکستا پر حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ مل جائے۔جماعت احمدیہ کے وکیل شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے دوران بحث جسٹس تیجا سنگھ کے ایک سوال کے جواب میں کہا :- تمام احمدی اول سے آخر تک مسلمان ہیں اور وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک حصہ سكر سمجھتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے اس محضر نامہ اور وضاحت نے ہندوؤں اور سے کے اس خیال کو پاش پاش کر دیا کہ وہ کانگریسی علماء کے بل بوتے پر اس ضلع کو غیرمسلم اکثریت کا ضلع ثابت کر دکھائیں گے اور اگرچہ ریڈ کلف ایوارڈ اور کانگریس کے گٹھ جوڑ اور سوچے سمجھے منصوبہ کے نتیجے میں اس مسلم اکثریت کے صوبہ کی تین تحصیلوں تحصیل بٹالہ تحصیل بیٹھا نکوٹ و تحصیل گورداسپور) کو ظالمانہ طور پر ہندوستان کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔مگر ریڈ کلاف اپنی بد دیانتی اور فریب کاری کے جواز میں احمدیوں کے محضر نامہ کی وجہ سےیہ کوئی دلیل دینے کی جرات نہ کر سکا۔جماعت احمدیہ نے ضلع گورداسپور اور قادیان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے دن رات ایک کر کے صوبہ پنجاب اور گورداسپور کی مردم شماری کے تفصیل اعداد و شمار جمع کئے