تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 34
دس ہزار جبینا اور شوکت اور نظر جواہر لال نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جا سکتے ہیں۔چمنستان از مولانا ظفر علی خمال ص ) ر ان لوگوں کا واضح مسلک یہ تھا کہ خطرہ نہ ہود سے ہے یہ نہ مہنود سے بلکہ خطرہ خود ان نیک دل اور سادہ لوح تیمار داروں سے ہے جومت اسلامیہ کے مرد بسیار کے مداوا کے لیے سلم لیگ اور اس کے رہنماؤں کی جد وجہد اور عملی پروگرام پر اس لگائے بیٹھے ہیں۔ر مجلس احراز او مسلم بیگ مث شائع کرده مجلس احرار اسلام با غبان پوره ) ظاہر ہے کہ یہ صورت جان ہندووں کے لیے انتہائی مفید اور ملت اسلامیہ کے لیے سخت ملک اور ضرر رساں تھی چونکہ حضرت امام جماعت احمدیہ جناب قائد اعظم محمدعلی جناح ہی کو اُن کی غذبات کے باعث تقابل عزت اور قابل ادب سمجھتے تھے انکی شملہ صفحہ ۱۹-۲۰ ) اس لیے آپ نے بینم ارادہ کر دیا ک کسی نہ کسی طرح قائد اعظم کواپنا میلہ بدلنے اور پھر دوبارہ بند دوستان گر مسلمانان ہند کی قیادت کے فرائض بھجانا نے پر آمادہ کیا جائے اس کے بعد حضرت امام جماعت احمدیہ کی ہدایت پر مولانا عبدالرحیم صاحب ورد نے مارچ میں اُن کے دفتر واقع کینگز پنچ دیو لندن 14