تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 39
۳۹ کر رہا ہے کہ اس نے احمدیت کو شکست دینے کے لئے سنجیدہ اور علمی فرائع سے کام لینے کی بجائے ہمیشہ پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا سہارا لیا اور مذہبی میدان میں مقابلے سے عاجز ہو جانے کے بعد بقول خود سیاسی میدان میں آکر اسے زک دینے کی کوشش کی لیکن ہر صاحب نظر اندازہ کر سکتا ہے۔کہ تنقیدی زادئیے جب سیاست کی عینک سے تجویز کئے جائیں اور اس عینک کے شیشوں میں جذباتیت۔پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا رنگ غالب ہو تو واقعات و حقایق کا حلیہ میری طرح بگڑ جاتی ہے۔اپ کچھ عرصہ سے احرار کے قائم کردہ نظر یہ پر دوسرے ناقدین حکمت نظر ثانی کر رہے ہیں۔چنانچہ ملک لمحمد جعفر خانصاحب ایڈووکیٹ لکھتے ہیں۔جماعت احمدیہ کی شروع زمانہ کی ترقی میں انگریزی حکومت کی سرپرستی کو بہت کم دخل ہے۔مرزا صاحب اپنی زندگی میں اپنے معتقدین کو ایک منظم اور کرو یہ ترقی جماعت کی صورت میں قائم کر چکے تھے۔مرزا صاحب شنگالہ میں فوت ہوئے تھے۔اس وقت تک مہندوستان میں تحریک آزادی نے صحیح معنوں میں جنم ہی نہ لیا تھا اور انگریزوں کو اپنی رعایا میں وفا پیشہ افراد اور جماعتوں کی خاص طور پر حاجت نہ ہوئی تھی۔مرزا صاحب کے زمانے میں ان کے مشہور مقتدر