تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 35 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 35

۳۵ سے اس مطلب کے الہام بھی ہوا کرتے تھے۔چنانچہ بقول میاں بشیر احمد ایم اے مرزا صاحب کا پہلا الہام جوانه یا دی میں ہوا یہ تھا۔کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔۔۔۔۔۔خودمرزا صاحب نے نہ صرف الہام کا بڑے طمطراق سے براہین میں تذکرہ فرمایا۔ملکہ عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی مرزا صاحب کی مقدس بارگاہ میں پیش کر دیئے گئے۔۔گو بادشاہوں کی متابعت کا کشف یا خواب کبھی پورا نہ ہو۔لیکن اس سے کم از کم قادیانی صاحب کی ذہنی کیفیت، ان کے خیالات کی بلند پروازی اور ان کی اولو العرومی کا ضرور پتہ چلتا ہے اور اس سے یہ بھی متبادر ہوتا ہے۔کہ قیام سلطنت کے اصل داخی و محرک میں نا صاحب ہی تھے۔آخر کیوں نہ ہو۔قوم کے مغل تھے اور رگوں میں تیموری خون دوڑ رہا تھا۔میرے خیال میں میرزا صابت نے قیام سلطنت کی جن آرزوئیں کو اپنے دل میں پرورش کیا۔وہ قابل صد ہزار تحسین تھیں " نے لیکن اب اس کے برعکس یہ نظر پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ تحریک در اصل انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔اور مرزا صاحب اس کے ایجنٹ اور جاسوس تھے۔اس سلسلہ میں ایک مشہور ادیب اور اخبار نویس جناب چراغ حسن صاحب حرکت اس امر کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ ه آزاد ۴ ۲ نومبر شواه