تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 18
ویر واقعہ اس موقعہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعال بنصرہ العزیز کا بیان فرموده ایک واقعہ پیش کر دینا چسپی سے خالی نہ ہوگا۔آپ فرماتے ہیں کہ :- و حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا۔آپ نے دعوی کرنے میں غلطی سے کام لیا ہے۔اگر آپ پہلے مولویوں کے سامنے یہ بات پیش فرمانے کہ اسلام کی حالت حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کے عقیدہ سے سخت خطرہ میں ہے مسلمان روز بروز کم ہو رہے ہیں اور عیسائی بن رہے ہیں اس کا علاج بتائیں۔تو اس وقت رب کے سب یہ کہ دیتے کہ اس کا علاج آپ ہی سوچیں۔پھر آپ ان کو اس کا علاج یہ نہاتے کہ قرآن مجید سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہے اس پر کسب مولوی کہتے کہ بہت اچھی بات آپ نے سوچی ہے۔پھر دوسرا ایران مولویوں کے سامنے پیش فرمائے کہ حوثیوں میں میٹی کے آنے کا ذکر ہے۔غیرمسلم قو میں اگر اس پر معترض ہوں تو اس کا کیا جواب ہوگا ؟ اس وقت بھی یہ علماء کہتے کہ آپ ہی اس کا جواب ہمیں بتائیں۔آپ جواب میں یہ فرماتے کہ عینی سے مراد وہ عیسے نہیں جو ایک دفعہ دنیا میں آچکا ہے بلکہ پیسے سے مراد شیل مسیح ہے۔پھر تیسرا امریہ پیش فرماتے۔کہ حدیثوں میں عیسی کے زمانہ کے متعلق جو علامات بیان ہوئی ہیں