تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 79 of 736

تحدیث نعمت — Page 79

<9 ٹیکسی والے کو میں اپنا مفہوم نہیں سمجھا اسکا اور وہ مجھے صحیح مقام تک نہیں لایا ، جہازہ تو ایک موجود تھا۔بچھوٹا سا اور کھلونے کی مانند خوبصوت۔اور چونکہ جہانہ تھا اس لئے قیاس تھا کہ پانی میں ہی کھڑا ہو گا۔لیکن اس کے ارد گرد تمام سبز کاہی تھی۔دریا کہیں نظر نہیں آتا تھا۔قریب کوئی عمارت تھی نہ کسی دفتر کا نشان تھا۔میں ٹیکسی سے اتر کر ادھرادھر نظر دوڑانے کے بعد ایک چھوٹی سی سیڑھی کے ذریعے عرشے پر پہنچا میاں کچھ میل میل اور رونق تھی۔ایک دو بارہ گھنٹی کی آوا نہ بھی سنائی دی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ کھلونا جہانہ حرکت کرنے کو ہے میرے پاس ٹامس لک کے لندن کے دفتر سے خریدا ہوا ٹکٹ تو تھالیکن انہوں نے مجھے بتا دیا تھا کہ یہ تعطیلات کا موسم ہے اور ان جہازی پر بھی ہوتی ہے مکن ہے تمہیں علم کین یا کین میں جگہ تو ن مل سکے لیکن کچھ نہ کچھ انتظام وہ کردینگے آخر میں کپتان تک پہنچا۔انہوں نے کہا اچھا ہوا تم پر وقت پہنچ گئے ہم تو بس اب چلنے والے ہی ہیں۔کمرہ تو کوئی خالی نہیں۔لیکن میں اپنے پچیف انجنیر سے کہہ دیتا ہوں وہ اپنی کیبین تمہیں خالی کر دیگا۔عام طور پر تو برکین میں دو مسافر سفر کرتے ہیں تمہیں اکیلے ہی کی ان مل جائے گی۔یہ اطمینان ہوتی ہے کے بعدمیں نے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ دریا کا پاٹ تو خاصا پوڑا ہے لیکن سارا نظر نہیں آتا کیونکہ بہت سے حصے میں لبی کا ہی اگی ہوئی ہے۔اور اس حصے میں سے تو پانی گذرتا ہے وہ نظر نہیں آتا۔جیسے جیسے تہاز پانی کی رد کے خلاف اور پر کی طرف حرکت کرتا گیا کا ہی غائب ہوتی گئی اور دریا کا پویا پاٹ نظر آنے لگا۔مجھے بعد میں بھی کوٹن برگ جانے کا اتفاق تو ہوا ہے لیکن اس رستے سفر کرنے کا اتفاق پھر نہیں ہوا۔گوٹن برگ کے شہر اور بندر گاہ دونوں میں اب بہت وسعت ہو چکی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ان دریائی بہانوں کیلئے بھی ٹھہرنے کا مقام بن چکا ہو گا۔اس وقت تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جہانہ ایک کاری کے کھیت میں لنگر ڈالے ہے۔اگر چہ جہا نہ میں سب کمرے رکے ہوئے تھے لیکن مسافروں کی کل تعداد نہیں تھیں سے زائد نہیں تھی۔ان دنوں جہانہ ہفتے میں تین بار گوٹن برگ سے روانہ ہوتا تھا۔اگر میں بروقت نہ پہنچتا تو مجھے دورات گوٹن برگ میں دوست جہانہ کا انتظار کرنا پڑہتا۔ایک دو گھنٹے کے اندر ہی سب مسافر ایک دوسرے سے شناسا ہو گئے اور تمہیں یوں محسوس ہونے لگا کہ تم ایک ہی کنبے کے افراد ہیں۔جہانہ کا سفر نہایت خوشگوار تھا کھانا نہایت لذیذ اور افراط تھا۔ہوا لطیف اور فرحت افزا نتھی۔اگر چہ ہماری سواری پانی پر چلتی تھی لیکن میں احساس ہیں تھا کہ ہم ایک ہموار سطح پر خشکی میں سفر کر رہے ہیں کیونکہ دونوں طرف دیہاتی زندگی کے مناظر اور سرگرمیاں نظر کے سامنے تھیں۔