تحدیث نعمت — Page 78
1 1 LA سردار محمد اکبر خان صاحب کی معیت میں ساہ کی گرمیوں کی تعطیلات قریب آئیں تو میرا سویڈن، فنلینڈ اور اردس کا سفر ارادہ ہوا کہ میں سویڈن اور فنلینڈ جاؤں اور سینٹ پیٹرز برگ ریو ان دونوں ممکت روس کا دارالحکومت تھا ، سے بھی ہوتا آؤں۔اس سفر کیلئے مجھے ایک ساتھی کی تلاش تھی۔میں نے سردار محمد اکبر خاں صاحب سے ذکر کیا اور وہ رضامند ہو گئے۔لیکن وہ اتنی جلدی روانہ ہونے پہ آمادہ نہیں تھے جتنی جلدی میں سفر یہ روانہ ہونا چاہتا تھا۔چنا نچہ طے پایا کہ میں سویڈن سے ہوتا ہوا ایک سنگ مورس پہنچوں اور وہ تین چار دن بعد روانہ ہو کر سیدھے وہاں اگر میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔اس زمانے میں فنلینڈ بھی آزاد نہیں ہوا تھا۔گو اسے خاص آئینی مراعات حاصل تھیں لیکن پھر بھی مملکت روسی میں شامل تھا۔فنلینڈ کی علیحدہ پارلیمنٹ تھی۔اور اس زمانے میں بھی 19 خواتین پارلیمنٹ کی رکن تھیں۔ملک کے سالے باشندے مرد و زدن خواندہ تھے۔فنش قانوں کے مطابق کوئی شادی نہیں ہوسکتی تھی جب تک دولہادلہن یہ ثبوت نہ پیش کریں کہ دونوں خواندہ ہیں۔تمدن اور معاشرت میں فنلینڈ ریوس کی نسبت ہر شعبے میں بہت آگے تھا لیکن سیاسی لحاظ سے روس کے نہ یہ اقتدارہ تھا۔روس جانے کیلئے پاس سے پر پا کی ضرورت تھی۔لیکن پاسپورٹ حاصل کرنے میں کوئی وقت نہیں ہوتی تھی کسی دن وزارت غار سجدہ کے محکمہ میں جاکہ درخواست دیدی بھائی اور دوسے دن وہ یہ خارجہ کے نام سے جاری کردہ پاسپورٹ مل جاتا۔ان دنوں پاسپورٹ کتاب کی شکل میں نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک فل سکیپ سائنہ کا دوہرا در ق ہوتا تھا۔چنانچہ میں نے اور سردار محمد اکبر خاں صاحبجے پاسپورٹ حاصل کرلئے۔اور میں پوری ہدایات حاصل کرنے کے بعد تاریخ مجوزہ پر روانہ ہو گیا۔میں لندن سے ریل پہ تارپیچ گیا اور وہاں سے بحری جہانہ پر گوٹھن برگ پہنچے گیا جو سویڈن کے مغربی ساحل پر ایک بندر گاہ اور مشہور تجارتی مرکز ہے۔سردار محمد اکبر خانصاحب لندن سے مبل تک ریل میں سفر کرنے والے تھے اور وہاں سے بحری جہانہ پر سیلنگ فورس آنے والے تھے۔سویڈن SWEDEN | ان دونوں گوٹھن برگ سے سٹاک ہوم بجانے کا ایک آبی راستہ ملک کے بیچوں بیچ بھی تھا دو ہی راستہ میں نے انتخاب کیا تھا۔جب میں بحری جہاز سے گو ختن برگ پہنچا تو دریافت پر معلوم ہوا کہ دریائی بہانہ کے روانہ ہونے کا مقام شہر سے باہر کچھ فاصلے پر ہے۔چونکہ میں بالعلا جنی تھا اسلئے ایک ٹیکسی کرائے پر لی۔اور ٹیکسی والے سے کہا مجھے دریائی جہانہ کے روانہ ہونے کے مقام پیسے چلو مجھے انگلستان آئے تقریباً دو سال ہو چکے تھے اور یہ پہلا موقعہ تھا کہ میں نے اپنی ضرورت کیلئے ٹیکسی کراتے پر فی کیونکہ اور کوئی وسیلہ میسر نہ تھا۔جب دریائی مجہان تک پہنچ گئے تو مجھے کچھ پریشانی ہوئی کہ شاید