تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 69 of 736

تحدیث نعمت — Page 69

49 کہا آپ میشک جائیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ جلد مکان پر پہنچ کر گرم پانی سے غسل کروں اور کپڑے بدل لوں میری جرابیں اور جوتا بھیگ گئے ہیں۔انہیں بہت جلد انار دینا چاہتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے کا بٹ کا رخ کیا اور میں اور بھی تیزی سے گرا سمیٹر کی طرف بڑھتا گیا۔مکان پر پہنچ کر غسل کیا کپڑے ہد سے اور چائے منگائی میں بڑے آرام سے بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ مسٹر محمد حسن بھی پہنچ گئے۔چہرے پر شگفتگی کے کوئی آثار نہ تھے۔میں نے دریافت کیا چائے مل گئی تھی ؟ کہا وہاں تو وقت ہی ضائع ہوا وہ ایک دہقان کا جھونپڑا تھا۔چائے تو مل جاتی لیکن وہ ہفان کی بیوی حالت نہ لگی میں تھی اور وہ لوگ معذورہ تھے میری طرف توجہ کرنے کی انہیں فرصت نہ تھی۔اب سامنے بچائے دیکھ کر مطمئن ہوئے۔اور میرے ساتھ شامل ہو گئے۔گیا سمیٹر کے گردو نواح میں جو مقامات دیکھنے یا سیر کے تھے جب ہم دیکھ سکے۔تو ہم کانسٹن واپس چلے گئے۔ایک رات ٹھہر کہ مسٹر محمد حسن تو واپس لندن پہچلے گئے اور میں ڈگلس (آئل آف مین چلا گیا جہاں میں مسنر کہ سیچان کے ہاں ٹھہرا۔اس سارے بنہ میرے میں آبادی کے کم سے کم ایک چوتھائی حصے کا نام کر سیچین تھا۔ان ایام میں مسٹر ہال کین ناولسٹ کی اچھی شہرت تھی اور وہ وہیں کے رہنے والے تھے۔ان کا مکان ڈگلس سے چند میل کے فاصلے پر تھا۔اندر سے دیکھنے کا تو مجھے موقعہ نہیں ملا صرف باہر سے ہی دیکھ سکا۔کوچ او نہ بجلی کی لدیل سے میں نے اس بند میجرے کے سب قابل دید مقامات دیکھ لئے اور بحری جہانہ سے بت بیرے کے گرد بھی ہو آیا۔گرمیوں میں مانچسٹر اور لورہ پول کے علاقے سے بڑی کثرت سے لوگ یہاں آتے ہیں اور جنہیرے کی آبادی میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔اس بات کا ہمہ ہیرے کی خوشحالی میں بہت دخل ہے۔میں شاید چند دن اور یہاں ٹھہرتا لیکن میں پاری سنز نے لندن سے لکھا کہ تمہیں گئے دو مہینے ہو گئے۔تم نے بہت لمبی چھٹی منالی ہے اب واپس لندن آجاؤ اور ساتھ ہی دھمکی دی کہ اب ہم تمہاری ڈاک تمہیں نہیں بھیجیں گے میں ان کا خط ملنے کے دوسرے دن ہی واپس لندن روانہ ہو گیا۔چند دن بعد میں بار کے رومن لاء کے امتحان میں شامل ہوا اور بفضل اللہ پاس ہو گیا اور اس طرح انگلستان میں میری تعلیم کا پہلا سال مکمل ہو گیا۔سردار محمد اکبر خاں صاحب سردار محمد اکبر خان صاحب نے بیرسٹری کا کورس مجھ سے ایک سالی پہلے شروع کیا تھا۔ان کے بڑے بھائی محمد صدیق باہر صاحب بھی ان کے ساتھ ہی بیرسٹری کیلئے انگلستان گئے تھے۔یہ دونوں شیخ اصغر علی صاحب آئی سی ایس کے بھانجے تھے سردار محمد اکبر صاحب خوش شکل اور وجیہہ جوان تھے۔نہایت خوش معلق تھے۔اور میرے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتے تھے۔اپنے لباس