تحدیث نعمت — Page 68
۲۸ " ایسے واقعات اس پہاڑ کی چوٹی پر یا اس کے آس پاس ہوتے رہتے تھے۔لیکن زیادہ تہ سردیوں کے موسم میں ہمارا قیام گرا سمیٹ میں آخر اگست شروع ستمبر میں تھا۔ہمیں بھی شوق ہوا کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر جائیں۔ایک سہ پہر جب مطلع بالکل صاف تھا۔بادل کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔درجہ حرارت نسلی بخش تھا اور سب حالات موافق نظر آتے تھے۔ہم نے بھی پہاڑ کی چوٹی کا قصد کیا اس خیالی سے کہ جب پڑھائی مشروع ہوگی تو گرمی سے طبیعت پریشان ہوگئی ہم نے چاہا کہ اپنے بارش والے کوٹے ساتھ نہ لے جائیں۔لیکن عادت کی پابندی نے ساتھ دیا اور ہم انہیں لیتے گئے۔سڑک چھوڑ کر پگڈنڈی پر ہو لئے اور چڑھائی شروع ہو گئی۔ہوئے اور راستہ کوئی الیسا د شوالہ گزارہ نہیں تھا لیکن پڑھائی خاصی تھی۔پسینہ آنا شروع ہوا اور کوٹ کا اٹھانا زحمت معلوم ہونے لگا۔لیکن اب انہیں کہیں چھوڑنے کی صورت نہ تھی۔ہم چوٹی پر پہنچے۔ہوا میں کچھ خنکی تھی لیکن سورج چمک رہا تھا۔اور الہ دگردہ کا نظارہ دلفریب تھا۔ہمیں چوٹی پر پہنچے چند منٹ ہی ہوئے تھے اور ابھی ہم پوری طرح ادھر ادھر دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ ایک ایک ایک بادل اٹھا اور تیزی سے پچوٹی کی جانب بڑھ کر اس کے اوپر بچھا گیا اور اولوں کی سخت بو جھاڑ ہونے لگی۔ہم نے جلدی سے کوٹ پہن لئے۔ہوا استقدر تیز تھی کہ ہم کھڑے نہ رہ سکتے تھے۔جس جگہ ہم کھڑے تھے وہ جگہ چٹیل تھی کوئی اوٹ میسر نہ تھی۔ناچارہ ہم پاوں کے بل بیٹھ گئے اور پیٹھ ہوا کی طرف کر دی۔اولوں کی بوچھاڑ میں اسقدر شدت تھی کہ دو تین منٹ بعد جب میں نے اپنا ہا تھ چہرے پہ رکھا تو نہ ہاتھ میں کوئی جس کھتی نہ چہرے ہیں۔یہ کیفیت کوئی چارہ پانچ منٹ ہی رہی پھر دفعتنا بدل گئی۔اولوں کی بوچھاڑہ ختم ہو گئی، بادل غائب ہو گیا سورج چکھنے لگا۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نے سب ڈ کی کافی سیر کر لی ہے۔اب جلد سے جلد نیچے اترنا چاہیے۔چنانچہ ہم نے سیدھے سڑک کی طرف اتنہ ناشروع کیا۔پگڈنڈی کو الگ چھوڑ دیا۔اولوں کی وجہ سے سردی۔کی ایسی شدت ہو گئی تھی کہ ہمارے ہا تھ اور چہرے شل ہو گئے محسوس ہوتے تھے۔اور ہماری ایک ہی خواہش تھی کہ ہم جلد نسبتا گرم ہوا میں مہنچ جائیں۔سیدھے اترنے کا کوئی راستہ تو تھا نہیں۔ہم کو دیتے پھاندتے پھیلتے چٹانوں کے گرد ہو کر تیزی سے نیچے آگئے۔دو تین منٹوں میں مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ میرے چہرے سے شعلے نکل رہے ہیں۔کچھ تو ہوا کی تنگی کم ہو رہی تھی۔کچھ تیزی سے اترنے سے خون کا دورہ تیز ہور ہا تھا۔اور کچھ اولوں کے تھپیڑوں کا ردعمل تھا۔تخمینا دس پندرہ منٹ کے اندر ہم سڑک پر پہنچ گئے۔اور تیزی سے گرا سمیٹر کی طرف پانچ کرنا شروع کر دیا۔ابھی ایک سینہ پھلے ہوں گے کہ سٹرک کی بائیں جانب سٹرک سے تین چار فرلانگ ہٹ کر ایک کائی نظر آئی۔مسٹر محمد حسن نے کہا امید ہے یہاں چھائے بل سکے گی۔میری طبیعیت نڈھال ہو رہا ہے گرم چائے سے بحال ہو جائے گی اور کچھ سنتا بھی لیں گے۔میںنے