تحدیث نعمت — Page 63
۶۳ بعدا ہوگیا۔آسکر کو افسوس ہو گا ایک ایشیائی بود دستی کے قابل تھا رخصت ہو گیا۔میں گھر سے تعلیم انگلستان آیا تھا ایک سال بھی پورانہ کرنے پایا، تعلیم پوری کر لیا، واپس جانا ، کامیاب بیرسٹر ہو تا ، شادی کرتا بچے ہوتے، ان کی اچھی پردیش کرتا ، نیک نام ہوتا، پھر بوڑھا ہوتا، پھر کیا ؟ پھر بھی یہی ہوتا جو آج سامنے نظر آرہا ہے، کوئی اتنا بڑا فرق تو نظر نہیں آتا کہ ہو ایک دن ہو کر ہی رہنا ہے ، وہ آج ہو یا پچاس سال بعد، بس اتنی ہی حقیقت سے نا زندگی کی ! تو اے اللہ میں تیری رضا پہ راضی ہوں، ہاں تجھ سے اتنی عاجزانہ التجا ہے کہ تو میرے ماں باپ کے دل کی ڈھارس ہو جائیں، ان کی باقی اولاد کو ان کیلئے پیشیوں کا موجب بنائیو، اے اللہ میں تجھ سے راضی ہوں تو مجھ سے راضی ہو جائیں" ہوں ہوں میں اپنے تحمیل میں اپنی عزیز ترین ہستیوں سے رخصت ہوتا گیا زندگی اور موت کی حقیقت اور قدر مجھ پرکھلتی گئی میری مینی سکون سے بدلتی گئی۔اس دو تین گھنٹوں کے عرصے میں جب یہ خیالات میرے دل و دماغ سے آہستہ آہستہ گذرتے رہے مجھے اپنی حالت پر ترس آیا نہ میرے دل میں کوئی محنت پیدا ہوئی نہ کوئی آخری تمنا میرے ولیمیں ابھی نہ ماں باپ اور عزیزوں کی یاد سے میری آنکھ تم ہوئی۔میں ایک ایک سے رخصت ہوا اور جس جس سے خصت ہونا گیا پھر میرا خیال اس کی طرف نہیں لوٹا۔آخر میں میں تنہا بے یار و مدد گا نہ بے کس اور بے بس اپنے رب کے حضور کھڑا ہو گیا اور میرے دل نے بغیر کسی تامل کے کہا۔اے اللہ میں حاضر ہوئی اور میں تیری مینا پر راضی ہوں۔اس کے ساتھ ہی میں آرام کی نیند سوگیا۔شایدمیں گھنٹہ بھر سویا ہوں گا۔بیدار ہوا تو میں نهایت نحیف ہو رہا تھا۔لیکن مجھے بے چینی کا احساس تھا نہ بخانہ کا۔میں آہستہ آہستہ بستر سے اٹھا منہ ہاتھ دھو یا وضو کیا۔نماز ادا کی پھر لیٹ گیا۔پھر اٹھا اورسمان باندھنا شروع کیا۔تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تھا۔اسلئے تمام عمر کات نہایت آہستہ اور حد درجہ کمزوری کی تھیں۔سامان درست ہوا تو شام کے کھانے کا وقت ہو رہتا تھا۔نیچے گیا۔اونچے میں مسٹر ڈائین اور ڈاکٹر کو ریٹ مل گئے۔تھوڑی دیمان کے ساتھ بیٹھا۔دونوں نے بہت اطمینان کا اظہار کیا کہ میں ان کے ساتھ سفر کرنے کے قابل ہو گیا ہوں۔ڈاکٹر کورٹ نے کہا میں تمنا سے متعلق متفکر تھا۔جب میں نے تمہیں دیکھا تمہاری حالت اچھی نہ تھی۔درجہ حرارت تو کچھ ایسا پریشان کن نہ تھا۔لیکن تمہاری نبض بے تحاشا تیز اور موجب تشویش تھی۔ہم تینوں کھانے کے کمرے میں گئے۔انہوں نے تو پورا کھانا کھایا اور میں نے شور ہے اور پھل پر اکتفا کیا۔9 بجے شب ہم جہاز پر پہنچ گئے اور میںنماز سے فارغ ہو کر آرام کی نیند سوگیا۔فجرکو بیدار ہوا تو فیض الله جابری کا کوئی اثر باقی نہ تھا۔جہاز کا نگر نور میں شکر ڈالے تھا۔ناشتے کے بعد ہم اوڈا کے قریب ایک آبشار دیکھنے گئے بہانہ پر واپس آنے تک میں بفضل اللہ اپنے آپ کو بالکل توانا اور تندرست محسوس کرتا تھا۔فالحمد للہ علی ذالک۔