تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 701 of 736

تحدیث نعمت — Page 701

الفاظ کی ابتدا ہی میں لفظ ہوگا ظاہر کرتا ہے کہ حالات خواہ موافق نظر آئیں یانہ یہ مارا اصل ہے اور ہوکر ہے گا۔پھرتے نام کے ساتھ والد صاحب مرحوم کا نام نصر اللہ خان شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ہی بخشش اس کی نصرت کا نشان ہوگی انانی کوشش کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔فسبحان اللہ و بحمدہ۔حرف آخر اگر یہ عافیہ کوئی خدمت سر انجام دے سکا تو وہ محض اللہ تعالیٰ کا کرم اور اس کی ذرہ نوازی اور اس کی عطا رد و تقویت سے ہوا اور بندرگا اور ابا کی دعائیں اسی عمر میں اور ہاں ہاں میں وہ کچھ نہ کرسکا وہ کرنے کے لائق ھاور کرنا چاہتاتھا اس کی وجہ انکار کی کوتاہ اور مفت تھی اللہ تعالی اپنے فضل اور رحم سے معاف فرمائے اور در گذر کرے۔آمین۔قرآن کریم میں اس کا ارشاد ہے کہ اس کا عفو بہت وسیع ہے اوروہ شفیق اور ورود مالک اور معتقد رستی گرفت میں جلدی نہیں کرتی۔میں جب اپنے گریبان کے اندر نگاہ ڈالتا ہوں تو یہ تقصیر اور معصیت کے کچھ نہیں دیکھتا اور منات ترسان اور ارزاں حالت مجھ پر وارد ہوتی ہے اور جب اس کے عواور رحم کا اندازہ کرتا ہوں تو کچھ ڈھارس بندھتی ہے۔اس کے فضلوں اور الغاموں کو دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں اور ان کا شمار نہیں کر سکتا۔سجدت لک روحی و سنانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل ہونا اپنے لئے سعادت عظمی شمار کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ یہ سعادت فیوض آسمانی کے دروازوں کے کھلنے کا موجب بھی بہت باری تعالی پر زندہ اور محکم ابیان اور عشق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس ناچیز نے حضور علیہ السلام سے حاصل کیا۔حضرت خلیفہ المسیح اول رضی القد تعالی عنہ کی شفقت اور توجہ ایک بہت بڑا العام تھی۔آپ کا ارشاد گیاں ہم نے تمہارے لئے بہت بہت دعائیں کی ہیں کہ انعامات اور فیوض کی خوشخبری تھا۔آپ کا اس ناچیز کواپنے مبارک ہاتھوں سے لکھے ہوئے محبت ناموں میں گھر اللہ باشی ارشد ارجمند باشی " کے دعائیہ القاب کے ساتھ یاد فرمانا اور بہت بڑھانا میرے لئے بہت خوشی اور انبساط کا موجب تھا۔پھر نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے جن الطاف و اکرام میں شفقت د محبت ، ہمیں تو یہ اور احسان کا بیہم مورد یہ عاجزہ کہ اس کا اندازہ بھی ناک کے لئے ممکن نہیں۔ان سب عنایات میں سے بعض کی کچھ تھلک ان اوراق میں نظر آئی ہوگی۔اس نصف صدی کے دوران میں خاک ری محسوس کرتا تھا کہ میری زندگی ایسے محفوظ ہے جیسی ایک طفلک نادان ہے بس کی نہ زندگی اس کی ماں کی گود میں محفوظ ہوتی ہے۔میری زندگی کا کوئی پہلوایا نہیں تھاتو حضور اقدس کی توجہ کے فیضان سے متمتنع نہ ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا انعام تھا جس کے کما حقہ شکر کی استطاعت کبھی یہ عالجہ نہیں رکھتا۔ستخاره اس عالیہ کی نہ ندگی این کم کل ماساء لتموه وان تعد والعملة الله لا تحصوها کی مثال علی جا رہی ہے۔میری سنتی