تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 700 of 736

تحدیث نعمت — Page 700

نیست از نفضل وعطائے او بعید کور باشد پر کہ انہ انکانہ درید : قادر است و معالق و رب مجید : ہر چہ خواہد سے کند عجز ش که دید؟ اس کی قدرتوں کی انتہا نہیں۔اس انتخاب سے ۳۶ سال قبل میری والدہ صاحبہ مرحومہ نے ایک مبشر خواب دیکھا تھا جوان کی وفات کے ۳۲ سال بعد اس انتخاب سے پورا ہوا۔فالحمدللہ میں رات انہوں نے خواب دیکھا اسی صبح کو مجھ سے " بیان کیا میںنے خواب میں دیکھا ہے کہ میں پنے سیالکوٹ کے مکان کے فلاں کمرے میں ہوں اور اس کمرے کی کھڑکی کے با ہر ایک بہت دل لبھانے والاکر اور آہستہ آہستہ کھڑکی کی ایک جانب سے دوسری جانب حرکت کر رہا ہے۔جب کھڑکی کے عین وسط میں پہنچا تو ایک پر شوکت آروانہ آئی۔ہو گا چیف جسٹس ظفر اللہ خان نصر اللہ خان کا بیٹا۔اور تخفیف سے وقفے کے بعد پھر اسی طرح رق یا کیا یہ الفاظ دہرائے گئے۔ہور کا چیف جسٹس ظفر اللہ خان نصراللہ خان کا بیان والدہ صاحبہ بفضل الله صاحبه در و یا کشون یں درہم سب کی بار دیکھ چکے تھے کہ ال عالی محض اپنے فضل و کرم سے انہیں اس رنگ میں نوازتا ہے۔وہ خود بھی جانتی تھیں کہ درد یا اور کشوف تعبر طلب ہوتے ہیں اور ان کی اصل حقیقت اپنے وقت پر ی جاکر آشکار ہوتی ہے۔اورمیں میں سندگان کی فیڈرل کورٹ کا نیٹ بھی تھا اور اگر قسیم کے بعد میںہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرتا تو اب اس میں تھاکہ آزادی کا اعلان ہونے پر سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ہوتا۔سورجون شاہ کو برطانوی وزیر اعظم ٹرائیل نے تقسی ملک کے طریق کار ا اعلان کیا اور اس پر ٹی نے فیڈرل کورٹ کی مجھ سے استعفے دیدیا جو اربوں سے عمل پذیر ہوا اسی سال سمر کے تیر تے میں جب میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت سے واپس لوٹا تو قائداعظم کی ہدایت کے مانخت بھوپال جانے سے پہلے نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کی خدمت میں لاہور حاضر ہوا۔انہوں نے بین امکانات کا نہ کر فرمایا ان میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ بھی تھالیکن ساتھ ہی انہوں نے فرمایا قائداعظم چاہتے ہیں کہ م وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالو پاکستان کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس میاں عبدالرشید صاحب مقرر ہوئے جب ان کی میعاد انتقام کے قریب پنچی تو انہوں نے از راہ نوازش سے ٹیلیفون پر اور پھر بالمانہ مجھے رضامند کرنے کی کوشش کی کہ میرا نام بطور اپنے جانشین کے توبہ کریں۔لیکن میں بوجوہ رضامند نہ ہوا۔سہ کے عدالتی انتخابات میں جب مجھے دربارہ عالمی عدالت کی رکنیت کیلئے منتخب کیا گیا اس وقت عدالت کے اراکین میں سے کئی دوبارہ منتخب شدہ اور دوسر بارہ منتخب شدہ تھے لیکن ان کے انتخابات بلا فصل ہوئے تھے ایک کبھی نہیں ہوا کہ ایک رکن اپن میعاد ختم کرکے عدالت سےعلیحدہ ہوچکا ہو اور وہ علیحدگی کے بعد وقفہ سے پھر منتخب ایک کر لیا جائے۔یہ صورت ایک مرن میرے متعلق ہی پیدا ہوئی ہے۔عدالت کی رکنیت پر دوبارہ فائدہ ہونے پر مرا در بر میرے پرانے رفقاء کے لحاظ سے پر سب سے نیچے تھا۔اب جو غور کرتا ہوں تومیر عدالت کی صدارت پر منتخب ہونا ضرور ایک اپنا اتا ہے اور اس بات کو پورا کرنیوالی ہے جو انخاب سے سالی والا کی والدانوب میں والفاظ سنے ان کو تھی میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت مرکوز تھی۔اول بطور سنتی اور تصدیق کے آواز پر شوکت تھی۔پھر دہی الفاظ دہرائے گئے۔اور