تحدیث نعمت — Page 52
۔لندن میں نو وار د تھے اور میں بھی نو دارد تھا اور ہم دونوں غیر ملکی تھے جب ہم کا ہسے نکل کر کالج کے پٹھانک پر واپس پہنچے اور ایک دوسرے سے رخصت ہوئے تو میں نے ان کا نام اور یہ دریافت کر لیا۔دوسرے دن میں نے انہیں خط لکھا اور آئندہ بدھ یا جمعہ یا ہفتہ کے دن اپنے ہاں چائے نوشی کی دعوت دی۔ان تین دنوں میں مجھے لیکچروں سے فراغت تھی بدھ اور جمعہ گزر گئے نہ وہ تشریف لائے نہ انکی طرف سے کوئی اطلاع ہی ملی۔میں نے خیال کیا شاید خط پہ نا یا پتہ ٹھیک نہ لکھا گیا ہو اور میرا خطا نہیں نہ ملا ہو۔ہفتے کے دن تک یہ بات میرے ذہن سے بھی نکل چکی تھی۔اس دن سہ پہر کو موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور میں اپنے کمرے میں مطالعہ میں مصروف تھا کہ خادم نے دروازے پر دستک دیگر در ورانہ کھول اور کہا ایک صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔ساتھ ہی وہ صاحب کمرے میں داخل ہوئے ٹوپی سے جو ان کے ہاتھ میں تھی اور اور کوٹ سے جودہ پہنے ہوئے تھے پانی گر رہا تھا۔میں کھڑا ہوگیا کوٹ اور ٹوپی ان سے لیکر ٹیکا دیئے اور میرے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔سمجھے تو آج آپ کے آنے کی توقع نہیں تھی تعجب وہ آرام سے بیٹھ گئے تو انہوں نے بتایا کہ انہیں میرا خط مل گیا تھا گو اس پر ان کا نام صیح نہیں لکھا ہوا تھا۔بدھ اور جمعہ کے دن تو وہ نہ آسکتے تھے کیونکہ انہیں لیکچر میں سجانا ہوتا ہے۔ہفتے کی سہ پہر ان کا ارادہ تھیٹر جانے کا تھا۔انہوں نے سکٹوں کے لئے کہا ہوا تھا اور توقع تھی کہ اگر کسی نے پہلے سے خریدے ہوئے ٹکٹ واپس کر دیئے تو انہیں مل جائیں گے۔لیکن انہیں اطلاع ملی کہ ٹکٹ ملنے کی کوئی امید نہیں لہذا ہفتہ کی سہ پہر تاریخ ہوگئی۔مگر مجھے اطلاع دینے کا وقت نہیں رہا تھا ان ایام میں بہت شاد کسی پرائیویٹ مکان میں ٹیلیفون ہوا کرتا تھا۔کہنے لگے مجھے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ یہ دعوت کس کی طرف سے آئی ہے۔اگرچہ خط میں تم نے اپنا نام اور پتہ تو لکھ دیا تھا لیکن جب ہماری ملاقات ہوئی تھی اس دن تم نے میرا نام اور پتہ تو دریافت کر لیا تھا لیکن اپنا نام مجھے نہیں بتایا تھا۔میرا ذہین تو تمہارا اخط پڑھنے پریس۔۔طرف جاتا تھا کہ یہ خط تمہاری طرف سے ہوگا۔لیکن یہ محض قیاس تھا۔آخرہ میں نے خیال کیا کہ چل کر دیکھیں کون صاحب ہیں۔ان کے اپنے کوائف یہ معلوم ہوئے۔پورا نام آسکہ میر نظر فرائی ہر نان آلسن ان کے والدہ میکسیکو میں جرمنی کے سفیر رہ چکے تھے۔خاندانی وطن جرمنی کے شمالی صوبے میں تھا۔اپنے صوبے کے موروثی شرفاء میں سے تھے۔باپ کے اکلوتے بیٹے تھے لیکن چار بہنیں تھیں ، والدہ فرانسیسی نژاد تھیں اسلئے مادری زبان فرانسیسی تھی اور گھر میں فرانسیسی ہی بولی جاتی تھی۔اسلئے بھی کہ ان دنوں رہ ہائش برسلز میں تھی جہاں ان کے واللہ کا صنعتی اور یوقتی کاروبار تھا۔جرمنی میں انجینرنگ کی تعلیم کے لئے اس لئے نہیں گئے تھے کہ وہاں داخلے کے لئے جو امتحان پاس کرنا ضروری تھے وہ انہوں نے بعد منی