تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 51 of 736

تحدیث نعمت — Page 51

۵۱ وں کی جھلک اتنک کہیں کہیں نظر آجاتی ہے۔چنانچہ ایک یہ رسم ہے کہ جب بادشاہ بابلکہ اپنی تخت نشینی کے بعد پہلی مرتبہ شہر کے اندر جائیں تو شمیل بار پر جو ابتدائی ایام میں لندن شہر کی حد فاصل تھی لارڈ میٹر ان کا استقبال کرتے ہیں اور بادشاہ یا ملکہ اپنی طرف سے شہر کے حقوق اور مراعات کی تصدیق کرتے ہیں۔اور اس کے بعد لارڈ میرا نہیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔یہ کریم ان وقتوں کی یاد گار ہے جب بادشاہ یا ملکہ لارڈ میٹر کی دعوت کے بغیر شہر میں داخل نہیں ہوسکے تھے آسکر یہ نماز سے پہلی ملاقات ہر سال نو نومبر کے دن لارڈ میٹر کا جلوس شہر کی طرف نکلتا ہے جو واپسی پر کنگز کالج کے قریب سے گذرتا ہے۔کالج کی عمارت سمرسٹ ہاؤس کا ہی حصہ ہے جو کرنی ہے میں شاہ ایڈور ڈششم کے ماموں ڈیوک آف کرسٹ کا محل تھا۔کالج کا تو بھاٹیک اپ استعمال ہوتا ہے وہ تو سٹر ینڈ میں ہے لیکن اس کا ایک پرانا پھانک دریا کی طرف بھی ہے۔کالج کے پرنسپل صاحت کے رہائشی حصے کا رخ بھی دریا کی طرف ہے۔اس چبوترے کے عین نیچے سے لارڈ میٹر کا جلوس گذرتا ہے ور نومبر اللہ کے دن گنگنہ کالج کے پرنسپل صاحب ریور رینڈر آن نظر سہی لم نے جو بعدمیں بشپ آن کلوسٹر ہوئے چند طلباء کو اپنے مکان کے چبوترے سے لارڈ میٹر کا جلوس دیکھنے کی دعوت دی جلوس کے گذر جانے کے بعد پرنسپل صاحب نے مہمانوں کی جن میں یہ طلباء بھی شامل تھے مکان کے اندر چائے، کافی ایک وغیرہ سے تواضع کی۔مجھے بھی پر سنیل صاحب کی طرف سے دعوت تھی۔جلوس دیکھنے اور بجائے وغیرہ سے پانچ بجے تک فراغت ہوگئی۔میں پرنسپل صاحب کے مکان سے نکل کر کالج کی طرف جاہ ہاتھا کہ میری ملاقات ایک سیلون کے بہنے والے طالبعلم سے ہوئی جن کے ساتھ میری شناسائی ہوچکی تھی۔ان کا نام سٹارونا چائم تھا وہ انجنیئرنگ کے آخری سال میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔وہ بھی پرنسپل صاحب کے مکان سے نکلے تھے انہوں نے دریافت کیا تمہاری آج کسی لیکچر میں حاضری ہے ؟ میں نے کہا چھ بجے ایک لیکچرمیں جانا ہے۔انہوں نے کہا ابھی کچھ دیہ تو تم فارغ ہو قریب ہی انڈیا کلب ہے ہم وہاں جا رہے ہیں تم ہمارے ساتھ چلو کچھ بجے کا لج واپس آجانا۔ان کے ساتھ دو اور یور مین طالب علم تھے۔ایک ان کے ہم جماعت تھے جو انگریز تھے اور دوسرے ایک جرمن جو انجینئرنگ کے پہلے سال میں تھے۔میں ان کے ساتھ ہو لیا اور ہم کلب پچھلے گئے جو دراصل ایک عیسائی مشنری سوسائٹی کا ادارہ تھا۔لیکن طلبا کو یہاں کچھ سہولتیں میر تھیں ہماری غرض دیہاں صرف فارغ وقت کا کچھ حصہ گذارنے کی تھی۔چنانچہ ہم نے نصف گھنڈیاں گذارا۔اس اثناء میں دونوں سنیٹر طار علم تو آپس مں باتیں کرتے رہے اورمیں اور ترین طالبعلم خاموش۔بیٹھے رہے۔شاید اس وجہ سے مجھے اپنے خاموش ساتھی سے کچھ ہمدردی محسوس ہونی یا یہ وجہ ہو کہ وہ بھی۔