تحدیث نعمت — Page 596
۵۹۶ کی ہوگا یا نہیں۔کوئی پون گھنٹے کے انتظار کے بعد علوم ہوا کہ جہاز واپس جاسکے گا۔مسافروں کو سوار ہونے کی بات ہوئی۔اور بہانہ بخیریت روانہ ہوگیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی گئے مندر خواب کی طرف خیال گیا کیونکہ سفر کا یہ حصہ مشرق سے مغرب کی طرف تھا۔میں دعاء میں مصروف ہو گیا پر دانہ بالکل ہموار تھی۔ایران میں تو زمین برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔عراق اور شام کے علاقے میں میدانی محصوں میں برف نہیں تھی۔دمشق کے قریب پہنچنے تک سورج غروب ہوگیا جب مشق کے مطار پر اترنے کا وقت آیاتو اعلان ہوا مطامہ پر دھند کی وجہ سے یہاں اترنے کا امکان نہیں بردت اتریں گے قین آنٹ میں بیروت پہنچ کر حیرت سے اتر گئے۔فالحمدللہ پاکستانی سفر متعین دشت محمود من صاحب کار به بیروت تشریف لے آئے ہوئے تھے۔ہم دو گھنٹوں میں حیرت میشم پہنچ گئے میں نے خیال کیا اللہ تعالی نے اپنے نقل دریم سے نعرے کو ٹال دیا۔اردن کا سفر | دروستکردن سفیر صاحب نے امان اطلاع دی کہ ہم موجب ارشاد حضرت جلالتہ الملک حاضر ہونے والے میں محمد حسن صاحب اردن میں بھی پاکستان کیطرف سے سیر ت کیم کار پر روانہ ہوگئے اور چار پانچ گھنٹے کے سفر کے بعدامان بخریت پہنچ گئے۔ہمارے قیام کا انتظام ہوٹل مں تھا ہوٹل کے باہرمیں نے ہوٹل کا نام THE PHILADELPHIA HOTEL دیکھا تو سفیر صاحب سے کہا یہ بھی امریکی اثر ہے ! وہ مسکرائے اور فرمایا میں امان ہی اصل تاریخی HILADELPHIA PHILADELPHIA ہے امریکہ نے یہ نام یہاں سے لیا ہے۔دیکھئے وہ ہوٹل کے بلین سامنے ایک پرانے رومی تھی کے آثار تک موجود ہیں۔شاہ حسین کی خدمت میں باریابی | علالتہ الملک حسین ابن طلال بن عبداللہ مری محبت اور احترام سے پیش آئے۔فرمایا ہم سب بہت دل سے تمہارے من میں کتنے قضیہ فلسطین کی ابتدا سے نہایت تجارت اور دانشمندی سے ہمارے حقوق کا دفاع کیا ہےاور بحالی میں اسرائیلیوں نے سخت ظلم اور تعدی سے قبیبہ کا گاری ماری حدود کے اندر بے جادا کرکے برادارات من و امان میں پیش ہوکراسرائیلیوں کی مکاریوں اور قریب کا ربوں کا پردہ فاش کیا۔میں نے عرض کیا پاکستان قضیہ فلسطین کو اپنا اور سارے عالم اسلم کا قضیہ سمجھتا ہے۔سمارا فرض ہے کہ جو مرد اور خدمت اس بارے میں ہمارے امکان میں ہو اس سے دریغ نہ کریں۔جب قبیدہ پر اسرائیلی پوری کا مسئلہ مجلس امن میں زیر بحث آیا تو پاکستان کا فرض تھا کہ حق اور انصاف کی پوری حمایت کرے، بیشک مجلس امن کی روایت ہے کہ عموماً ہر رکن کا سفر کردہ منتقل نمائندہ ہی اس کی طرف سے مجلس امن میں تقریر کرتا ہے۔لیکن امور خانہ جہ میں ہر ملک کا اصل نمائندہ تو وزیر خارجہ ہی ہے۔میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر میں خود پاکستان کی طرف سے مجلس میں نمائندگی کروں۔جلالتہ الملک سے میری تین ملاقاتیں ہوئیں۔ہر دفعہ بڑی محبت سے پیش آئے۔ایک ملاقات میں تو صرف میں حاضر خدمت تھا۔بلا تکلف عرب :