تحدیث نعمت — Page 594
۵۹۴ بھڑوں نے وہاں چھتہ بناہ کھا تھا۔میں اندر داخل نہ ہوا۔باہر سے ی دعا کر کے پھر امینوں اور تیروں کا سہالہ لیتے ہوئے نیچے اتر آیا۔میرے ساتھی نیچے میرے انتظار میں رہے۔یہ اسی شاہ فورس کا مقبرہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں سورہ کہف کے آخری رکوع میں ذوالقرنین کے نام سے آتا ہے، واپسی پر ہماری مورمنڈی کے درمیان ایک پتھر پر اٹک گئی۔اتنے میں آقائے صحرائی سرکاری موٹرمیں ہمارا تعاقب کرتے ہوئے ندی کے کنارے پہنچ کر مارا انتظار کر رہے تھے۔جب دیکھا کہ ہماری موٹرک گئی ہے تو لگے سرکے بال نوچنے کراب کیا ہوگا۔سوناکیا تھا ہم نے جوتے اور حرا میں اتارلیں تیکو مین اور کھینچ لیں ہوتے جرابیں ایک ہاتھ میں لئے دوسرے ہاتھ سے معلوم تھامے پایاب دور سے کنارے پہنچ گئے۔آقائے صحرائی کی جان میں جان آئی۔پانچ چھ د مقالوں کو جمع کیا جن کی بہت سے مورنڈی سے نکل آئی اور ہم نے شاہراہ پر واکس پہنچ کرا پا رستہ کیا۔تخت جمشید ابھی شیر از اندازا ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا کہ ٹرک بائیں طرف مڑی اور ایک ایک ایک حیرت انگیز منظر ہماری آنکھوں کے سانے آیا۔پہاڑ کے دامن میں سٹرک سے ۳۰ یا ہم فٹ کی بلندی پہا ایک پیتے ہموار مرتفع میدان تھا۔جس میں بڑے بڑے بلند ستون تھے اور ان کے ارد گرد سمیع عالی شان عمارتوں کے کھنڈرات تھے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ مقام قرون اولی میں کسی نہ یہ درست طاقت کا پایہ تخت ہو گا۔عرفانی صاحب نے بتایا کہ میں وہ مقام ہے جو تخت جمشید کے نام سے اپنے زمانے میں شہرہ آفاق تھا۔شاہ فورس کی سلطنت ایران سے بحیرہ اسود، در دانیال ، جیره توسط اور مر کے اے کی پھلی ہوئی تھی ان کے بی نے جو ان کا جانشیں ہوا اسے اور بھی وسعت دی وہ ایک ہم سے واپس آرہا تھا کہ ایشیائےکوچ میں ایک مقام پاس کا گھر بد کا اور اس گرا دیا کرتے ہوے اس کا اپنا خر اس کے پیٹ میں گھس گیا اوروہ ہلاک ہوگیا۔و بے اولاد تھا۔اس کا چازاد بھائی اس کا وارث ہوا جس کی اولاد نے کئی پشتوں تک حکومت کی۔تخت جمشید انہیں کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ تھا۔اس خاندان کا آنوری حکمران دہ دارا تھا جیسے سکندر اعظم نے شکست دیکر اس خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا۔کہا جاتا ہے کہ سکندر نے تخت جمشید کو آگ سے تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن اگر ہم یہ بھی ہوتو کندی کی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔تخت جمشید کے کھنڈرات آج ۲۰ سال بعد بھی شاہ فورس کے جانشینوں کی عظمت کی مور یاد گار ہیں ہم نے دوتین گھنٹے تخت جمشید کے دکھنے میں صرف کئے۔ایرانی محکمہ آثار قدیمہ کے افسر متعین تخت جمشید نے ہماری تواضع میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔مخبزاہ اللہ۔ان کا عرفانی صاحب کے ساتھ گہرا دوستانہ تھا۔میں ان سے بہت سی معلومات ہو ئیں۔لیکن نہیں سخت افسوس رہا کہ م تخت جمشید جیسے مقام پر چند گھٹے میٹرک کے بت ہی دیکھنے کے کم سے کم تین دن میں قیام کرنا انام ہے لیکن ہمارے پاس اتنا وقت نہ تھا۔