تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 593 of 736

تحدیث نعمت — Page 593

۵۹۳ اپنا طرز میں گویا میں کے سان مار کو ترک کی حیثیت رکھتا ہے۔بازار نہایت خوشنما ہے۔زندہ رود کا دو منزلہ پل ایک قامہ کی یاد گار ہے۔پارس گاری شاہ شوری کا مقبرہ | اصفہان سے شیر از جاتے ہوئے موسم بلد خوش گوار ہو گیا۔آئے عرفانی یران کی تاریخ اور تمدن کا بسط فرمینگ میں مورتی ہوتی تھی اور رانی صاحب ایمانیات کے ساتویں آسمان پارس سے بھی زیادہ سرعت سے محو پرواز تھے۔میں نے بات کاٹتے ہوئے دریافت کیا آپ بتا سکتے ہیں شاہ نورس کی قر کہاں ہے؟ تھے ہوئے سکتے ہیں عرفانی صاحب چونکے اور ایک لحظه توقف کے بعد دائیں ہاتھ سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔بس ہیں تو ہے یا آپ دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں نے خیال کا عرفان صاحب یا تو حواس کھو بیٹے ہیں پھر کوئی بڑے جادو کہ ہیںکہ میرے دفعہ شاہ فورس کی تر کے متعلق پوچھنے پر انہوں نے فوراً اس تاریخی عمارت کو موٹر کی بائیں جانب لاکھڑ کی ہے۔موٹر تیزی سے بڑھتی جارہی تھی۔میں نے جلدی سے کہا ہاں ہاں ضرور دیکھنا چاہتا ہوں۔عرفانی صاحب نے رایور کو مٹانے کو کہا اور موٹر کی تو ایسے ہی واپس چلو کوئی دوران واپس ہوکر موٹر ٹرائی اور کا اتہ ہے۔ہم ان سے لیکن کسی عمار یا عمارت کے کھنڈرات کا نہیں کوئی شان تک نہ تھا۔البتہ سڑک کے کنارے پر یہاں سے ایک پکڈنڈی نکلتی تھی ایک چھوٹی سی تختی ایک ڈنڈے کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔عرفانی صاحب نے اس کی طرف اشارہ کا اور فرمایا یہ ہے میں نے حیران ہوکر پو چھائی کی ہے؟ فرمایا پارسگاہ میں نے توجہ سے دیکھا تو بیشک گنتی رہ مدھم ساکچھ کھا ہوا تھا سے پاسگار بھی بڑھا جاسکا تھا۔آخر عرفانی صاب نے یہ عقد کشانی کی کہ پارسگارت خوری کے مقبرے کا نام ہے جو سڑک سے دور میل کے فاصلے پرہے اور کی پگڈنڈی میر کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔عرفانی صاحب نے پوچھا آپ چلیں گے ؟ میں نے کہا ضرور ہو گا اگر اور جاسکی ہے تو موٹر پر جائیں گے ورنہ پیدل لینگے عرفانی صاحب نے فرمایا موٹر جاسکتی ہے البتہ رستے میں ایک چھوٹی سی ندی ہے کوئی ایسی گہری نہیں لیکن اگر اس میں پانی زیادہ ہوا تو مور کو وہاں رکنا پڑے گا۔میر ندی کے پارک کوئی پو میں ر ہے میں نے کہا اے ندی پر پہنچ کر گئے جن کی کا مالک جس کی ذات پرایران کو بجا طور پر فخر ہے اس کی قبر کی نشان دہی ایک مقر سی سختی کرتی ہے اور قبر تک منچنے کا رستہ ایک پگڈنڈی ہے جو ایک ندی پر جا کر ختم ہو جاے گی یا موٹر آسانی سے نری تک چلی گئی۔ندی بظاہر پایاب تھی اور میڈ سنڈی کا نشان ندی کے اس پار بھی دکھائی دیتا تھا۔ڈرائو نے موٹر پانی میں ڈالی اور بی کسی شکل کے ہم ندی کے پار پہنچے گئے اور چند منٹوں میں موٹر میں مقبرے کے احاطے کی تین فٹ اونچی دیوار تک لے گئی۔دیوانہ کے اندر صحن بالکل اجاڑ تھا اور تقرے کی عمارت جو دو منزل تھی بالکل خستہ حال میں تھی۔انہیں گری ہوئی چونا اکھر روانہ مجاورین پاسبان میں اینٹوں اور تیری ا سہارا لیتے ہوئے اوپر کی منزل تک پہچان یہاں بھی ویرانی کا یہ عالم تھا کمرے کے اندر تعوین کا نشان نظر آتا تھا لکین