تحدیث نعمت — Page 590
1 ۵۹۰ میں نے اشارے سے دریافت کیا کیا بات ہے؟ اس نے کہا تین وزیر صاحبان تشریف لائے ہیں۔میں نیچے گیا تو دیکھا که چو دھری محمد علی صاحب ، میان مشتاق احمد گودرمانی صاحب اور سردار بہادر خانصاحب دفتر کے کمرے میں میرے انتظار میں میٹھے ہیں۔چودھری محمد علی صاحب ٹیلیفون پر کسی سوال کے جواب میں بتا رہے تھے کہ اس تربیت کمرے میں کون کون صاحب ہیں۔مینیون بند کر کے دو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم سیکوگورن برای تاب نے طلب فرمایا ہے۔نئی کابینہ کی تشکیل ہمارے حاضر مون گران را صاحب نے فرمایا میں نے چودھری محمدعی بوگرہ کونٹی کا مینہ بنانے کوکہا ہے (وہ ان دنوں امریکہ ہی سفر تھے اور وزارت خارجہ سے بعض امور کے متعلق مشورے کے لئے کراچی آئے ہوئے تھے ، محمد علی بوگرہ صاحب نے ہم چاروں کو وزارت میں شامل ہونے کی دعوت دی اتنے میں سر گلٹ لیتھویٹ برطانوی ہائی کمشز گور نہ جنرل کوملنے کے لئے آئے۔اور گورنہ تنزل صاحب ان سے ملنے کے لئے دوستہ کمرے میں چلے گئے۔واپس اگر گورنر جنرل صاحے بتایا کہ مائی کم صاحب کہتے ہیں کہ انہیں خان ناظم الدین نے طلب فرمایا اور کہاکہ گورنی جنرل نے کابینہ کو با وجود اسکے کہ کابینہ کو اس بل میں اکثریت حاصل ہے موقوف کر دیا ہے ان کا یہ فعل خلاف آئین ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی وجہ سے وہ مستوجب معزولی ہیں وہ بحیثیت وزیراعظم ملکہ معظمہ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فعل کی وجہ سے گورنہ تنزل کو ان کے منصب سے علیحدہ کیا جائے۔ان کی سید درخواست ملکہ معظمہ کی خدمت میں پہنچادی جائے۔میں نے کہا میں پاکستان میں ملکہ برطانیہ کا نمائندہ ہوں یہ معاملہ پاکستان سے متعلق ہے اور ملکہ پاکستان کی خدمت میں عرضداشت پیش کرنے کا ذریعہ پاکستان ہائی کمشنر متعینہ لندن ہیں۔آپ ان کے ذریعے اپنی گذارش ملکہ پاکستانکی خدمت میں بھی دیں کیونکہ میں یہ خدمت بجالانے کی حیثیت نہیں رکھتا۔وزیراعظم صاحب کی خدمت سے رخصت ہو کر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ کو اس گفتگو سے مطلع کردوں۔اس اثناء میں نئی وزارت کی تشکیل جاری رہی۔ڈاکڑ نے ایم مالک صاحب کو طلب کیا گیا اور انہیں کا منہ میں شام ہونے کی دعوت دیگئی۔انہوں نے دعوت ول رامای مین ایا میں ابھی ابھی خواجہ ناظم الدین کے پاس سے آیا ہوں۔مناسب ہے کہیں انہیں جاکر مطلع کردوں کریں نے کابینہ میں شامل ہونا منظور کر لی ہے میں ہ بھی سناب سمھتا ہوں کہ بعض غیر لیڈروں سے اس مرحلے پر بات چیت کرکے ان کار دل کا بند کی برطرفی کے متعلق معلوم کردی اورنئی کابینہ کے متعلق انہیں اطمینان دلا دوں تاکہ بے خبری میںان کی طرف سے کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے تو حکومت کے لئے پریشانی کا موجب ہو۔چنانچہ وہ تشریف لے گئے اور آٹھ بجے شام تک واپس آنے کا وعدہ کر گئے۔اے کے بردی صاحب کو طلب کیا گیا ایک طرف سے جاب مل کر انہیں خواہ ناظم الدین صاحب نے طلب کیا اور ان کے ان جانے کی تیاری کر رہے ہی ا ا ا ا ا ا و و و و یا ری ہو تی ہے اور بتایا کہ خواجہ صاحب نے ان سے دریافت فرمایا کہ آئین کے روسے گورنر جنرل صاحب کا اقدام کہاں تک درست ہے۔انہوں نے کہا کہ امی کے