تحدیث نعمت — Page 554
۵۵۴ المالوی نو آبادیوں کا مسئلہ ء میں اقوام متحدہ کی امی کا سالانا اجلاس پیرس میں ہوا۔اس اجلاس کے ایجنڈے میں اطالوی نو آبادیوں کا مسئلہ بھی شامل تھا۔لیکن اس مسئلے پر غور کے لئے پرس میں وقت نہ مل سکا اسلئے اجلاس شروع اپر یل شکر تک ملتوی ہو گیا۔اور اپریل کہ میں اس مسلے پر نیو یارک میں غور ہوا۔دوسری عالمی جنگ میں اٹلی کی شکست کے بعد جو معاہدہ املی اور اتحادیوں کے درمیان ہوا اس کے رو سے اٹی اپنی الہ آبادیوں سے دست بردار ہویا اور ان علاقوں کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار اتخاری در عظمی کو دیا گیاکہ وہ باہمی مشورے سے اور ان علاقوں کی آبادی کے اس سات کو مد نظر رکھتے ہوئے کریں۔ایک شرط یہ تھی کہ اگر معاہدے کے نافذ ہونے کے ایک سال کے اندر اتحادی ممالک باہمی اتفاق سے فیصلہ نہ کر سکیں تو یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور آملی تو بخورید کرے گی وہ قابل پابندی ہوگی۔دول متعلقہ میعاد کے اندر کسی مصلے پر متفق نہ ہوسکے اس لئے یہ مسلہ جنرل اسمبلی میں غور اور فیصلے کے لئے پیش ہوا۔لیبیا کی آزادی | دول متعلقہ میں سے ایک طرف ریاستہائے متحدہ ، برطانیہ اور فرائض اور دوسری طرف املی کے درمیان یہ موجود ہو چکا تھا کہ اطالوی نو آبادیات میں سے لیا کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ شرقی حصے YRENACIAے پر برطانیہ کی نگرانی بطور امین TRUSTE E کے ہوگی۔وسطی اور مرکزی حصے TRIPOLI کی ٹریسٹی شپ اٹلی کے سپرد ہو گی اور مغربی حصے FEZZAN کی ٹریسٹی شپ فران کے پر دہ اور یہ تینوں طاقتیں ہیں سال کے عرصے میں ان علاقوں کو ایک متحد آزاد ملک کی حیثیت اختیا کے کرنے کے لئے تیار کریں گی۔اس سمجھنے کو برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹر ارنسٹ ہیون اور اٹلی کے وزیر خارجہ کونٹ سفورزا کے اسمائے گرامی کی عیسے ہیون سفور نا بیکٹ کا نام دیا گیا تھا۔جب یہ مسئلہ اسمبلی میں زید بحث آیا تو اس سمجھوتے کے مطابق قرار داد اسمبلی میں پیش کی گئی۔اطالوی معاہدہ امن کی متعلقہ شق میں درج تھا کہ اس مسلے کے جنرل اسمبلی میں زیر بحث آنے کی صورت میں میلی نو آبادیات کی رائے عامہ کو مناسب وزن دیگی۔لیبا کا ایک نمائندہ ودند سر کردگی السید بشیر سو دادی و در ان بحث نیو یارک میں موجود تھا یہ دوند اراکین اسمبلی کو لیا کی رائے عامہ سے مطلع کرنے کی سرگرم کوشش میں مصروف تھا۔رند کا کہا تھا کہ لیبا کا بر طبقه محمد زه قرار داد کا سخت مخالف ہے انہیں لیبیا کے حصے بخرے کئے بجانے منظور نہیں۔وہ جلد سے جلد اپنے وطن کی آزادی کے خواہشمند ہیںاور کسی صورت اپنے وطن کے معاملات اور مستقبل میں اطالوی مداخلت کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔مغربی طاقتیں اپنا تمام اثر و رسوخ قرارداد کی تائید میں صرف کر رہی تھیں۔لاطینی امریکی ریاستی اگر چہ معنی خود اختیاری اور رائے عامہ کی تائید پس در دیتی تھیں۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ امی ان کی تمدنی اور معاشرتی اقدار کا منبع ہے اسلئے وہ ٹری پولی کی نگرانی املی کو سپرد کئے۔۔