تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 533 of 736

تحدیث نعمت — Page 533

۵۳۳ ے پس پردہ حالات کو ظاہر کرنا اور ہندوستان کو مجرم کی حیثیت میں دکھانا ضروری ہے۔اسلئے لاز ما بہت سے امور کی وضاحت ناگزیر ہے جن کا بیان ہندوستان کی طرف سے اسلئے نہیں کیا گیا کہ وہ ان کے خلاف جائے ہیں۔ان تمام واقعات کا مختصر بیان بھی وقت چاہتا تھا اور مجلس امن کے ایک اجلاس میں تقریر کے لئے مرن سوا دو گھنٹے میں آتے تھے اسلئے میری تقریر تمین اجلاسوں میں مکمل ہوئی۔چند سالوں کے بعد کولمبیا کے نمائندے نے ایک دفعہ مجھ سے کہا۔کشمیر کے معاملے میں ہندوستانی مائندے کی پہلی تقریر یتنے کے بعد محلیس اس کے اراکین کی کر کیا یہ تارہ تھاکہ پاکستان نے آزادی حاصل کرتے ہی فرد کا رستہ اختیار کر لی ہے اور دنیا کے ان کے لئے ایک خطرے کی صورت پیدا کر دی ہے۔لیکن جب جواب میں تمہاری طرف سے اصل حقیقت کے رخ سے پردہ ہٹایا گیا تو ہم سب نے سمجھ لیا کہ ہندوستان مکاری ور عیاری سے کام کر رہا ہے اورکشمیر کی رعایا یہ ظلم ہورہاہے اور ہمارا یہ تاثر بعدمیں کسی وقت بھی زائل نہیں ہوا۔۔دو تین دن بعد میری تقریر کا جواب مٹر ستی واڈ نے دیا۔اپنی تقریر کے شروع میں انہوں نے میرے متعلق کچھ درشت کلامی بھی کی۔مسٹر سیلواڈ بڑے قابل وکیل میں انہوں نےاپنی قابلیت کا ہر حربہ استعمال کیالیکن ایک مردہ کیس میں جان ڈالنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔یمن ہے مجلس کے بعض اراکین نے کچھ اثر قبول کیا ہر کیونکہ ہمارے ہند میں سے سفر اصفہانی صاحب کچھ مشوش نظرآتے تھے مبادا کوئی رکن سرسیلواڈ کے فریب میں آجائے۔مسٹر سیلواڈ نے ہندوستان کے دامن کو پاک اور بے داغ ثابت کرنے کے لئے میاں تک کہ دیا کہ مہارا یہ کشمیر کی الحاق کی درخواست قبول کرتے ہوئے ہم نے خودان پر واضح کر دیا ہے کہ یہ الحاق عارضی ہے اور تقل جب ہو گا جب کشمیر کی رعایا کی کثرت آزادانہ طور پر اس کی تائید می اظہار رائے کردیگی۔اس سے بڑھ کر الضفاف پسندی کا ثبوت ہم کیا دے سکتے ہیں ؟ وہ بہت سی کھوکھلی اور بے بنیاد باتیں تھی کہ گئے۔میرا اثر یہ تا کہ انہوں نے ہمارے لئے موقعہ پیدا کر دیا ہے کہ ہم اراکین مجلس پر ثابت کر دیں کہ ہندوستان کا دعوی کچھ ہے اور عمل بالکل اس کے خلاف ہے۔میرا یہ بھی تاثر تھا اوراب تک ہے کہ سر سیلواڈ نے اپنی طرف سے کوئی بات فریب یا بد دیانتی سے نہیں کی تھی۔البتہ بہت سے واقعات کا انہیں علم نہیں تھا اور میری طرف سے ان واقعات کے پیش کئے جانے پر انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یہ دافعات صحیح ہو سکتے ہیں۔تیسرے اجلاس میں بعض اراکین مجلس امن اور بہت سے حاضرین کو خیال تھاکہ میں مرسیلواڈ کی دشت کلامی کے خلاف احتجاج کروں گا اور سوا یا ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں کا تھوڑا بہت ثبوت سیلواڈ صاحب کی خدمت میں پیش کر دیگا۔لیکن میں انکی درشت کلامی پر قطعا کیا افروختہ نہیں تھا بلکہ مجھے اس خیال سے