تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 532 of 736

تحدیث نعمت — Page 532

سلام السلام الله تعالی کا شکر ادا کیا۔ستانی تیرہ اور چودہ جنوری تیاری میں صرف ہوئے، اتنا وقت تو میر نہیں تھا کہ تفصیل تیاری ہوسکتی۔ایک تو ندونی دستا و نیات کا جواب جس کا مسودہ لندن میں زرد در نویس کو لکھوایا گیا تھا صاف کیا گیا اور دور کے قضیہ کشمی کے متعلق نوٹ تیار کئے گئے جن کی بنا پر مجلس امن میں اس مسئلے کی حقیقت واضح طور پر بیان کی جاسکے۔چونکہ مجلس امن میں یہ قضیہ سہندوستان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا اس لئے مجلس میں پہلے ہندوستان کے نمائندہ کو تقریر کرنی تھی۔پاکستان کی طرف سے جوابی تقریر کی تیاری توہندوستان کے نمائندہ کی تقرینے کے بعد ہی کی جاسکتی تھی۔البتہ اس کے لئے ضروری موا جمع کرنا اور اس ترتیب دینے کا کام پہلے بھی ہوسکتاتھا۔اگر چہ قاعدے کے لحاظ سے اس قصے میں ہندوستان کی حیثیت مستغیث کی تھی۔لیکن در حقیقت مستغیث پاکستان تھا اور مند دوستان عزیزم مستغیث کی حیثیت سے جو کچھ ہم کہا چاہے تھے اس کا ڈھانچہ تیارہ کرنے کا بھی یہی وقت تھا۔غرض یہ دو دن بہت مصروفیت میں گذرے۔ہندوستانی وفد کے سربراہ سرگو پالا سوامی آئیگر تھے جو بر سوں ریاست کشمیر کے وزیر اعظم رہ چکے تھے اور ان دنوں بھارت کی مرکزی حکومت میں وہ یہ تھے۔ان کے معاون سرگز باشنکہ یا بھائی اور سٹرایم ایل سی تلوار تھے۔ان دنوں ممیلیس امن کے اراکین اربائی تنظیم، کینیڈا چین، کولمبیا، فرانس ،شام، روس، برطانیہ، ریاستہائے متحدہ امریکی اور پوستر تھے۔ان میں سے چین، فرانس ، روس، برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ تومستقل اراکین تھے اور باقی چھ میعادی این ہندوستان کی طرف سے سرگوپال سوام! آئنگر نے ۱۵ر جنوری کو سہ پہر کے اجلاس میں تقریر کی۔خلاصہ اس کا یہ تھا۔مہارا ہو کشیر نے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ پر مضاد رغبت کیا ہے۔اس کے خلاف پاکستان کی انگیخت پر اور اس کی مدد کے ساتھ قبائیلیوں نے ریاست پر دھادا کر کے بہت تن و اور خون خرابہ کیا ہے۔قبائلیوں کی روک تھام کے لئے ہندوستان کواپنی فوج بھیجنی پڑی۔موجودہ صورت جنگ کا رنگ اختیار کرگئی ہے پاکستان قبائلیوں کی ہر طرح سے مدد کر رہاہے بہت سے پاکستانی فوجی اور انہ بھی قبائلیوں کے ساتھ ہیں۔پاکستان کا یہ رویہ بین الاقومی قانون کے خلاف ہے۔پاکستان کو اس سے روکنا لازم ہے۔پاکستان قبائلیوں کی مدون کرے اور انہیں واپس جانے پر آمادہ کرے الحاق کے متعلق ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ جہاں فرمانہ رائے ریاست ایک مذہب کا ہوا اور رعایا کی کثرت درست ہے مذہب کی ہو وہاں فرمانروا کا فرض ہے کہ وہ الحاق کا فیصلہ رعایا کی کثرت رائے کے مطابق کرے۔ہندوستان اس اصول پر پختہ طریق سے کاربند ہے۔چنانچہ جب ریاست کشمیر میں ان قائم ہوجائے گا تو کشمیر کی رعایا کے منشاء کے مطابق الحاق کے معاملے میں آخری فیصلہ کریں گے۔ان کی تقریر کے بعد اجلاس دو دن کے لئے ملتوی ہو گیا۔دوار ہے اجلاس میں میں نے جوابی تقریر میں کہا ہندوستان کے نمائندے نے اپنی تقریر میں عمداً اس قبیٹے کی مجید کیوں کو پس پر دوار رہنے دیا ہے اور صرف پاکستان کے خلاف الزامی پہلو پر زور دیا ہے۔ہماری طرف سے اس اہم اور پیچیدہ قضیے