تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 522 of 736

تحدیث نعمت — Page 522

۵۲۲ اگر تم ان تجاویہ کے متعلق ترامیم پیش کرتے سجاؤ اور مختصر سی تقریر بر ترمیم کی تائید می کرد و تو ہم سنڈے نیویل کے پانچوں ممالک کے نمائندے تمہاری تائید میں رائے دیں گے اور کمیٹی کی موجودہ فضا میں تمہاری تمام ترمیمیں منظور ہو جائیں گی ہوگا کہ اگر ا ا ا ا ا ا رتی کی ترمیم منور بھی کی توبہت سے اور میں عربوں کی اشک شوئی ہوجائے گی مجھے یہ جونہ گئی پسند آئی اور مں نے یہ دیکھنے کیلئے کہ ان کا اندازہ درست ہے یا نہیں ایک معمولی سی تہ میم پیش کی اس پر فورا رائے شماری کسان ترمیم ہوئی اور ترمیم منظور ہوگئی۔اس پر السید جمال الحسینی نے ہو فلسطینی رند کے سربراہ تھے اور جن کی نشست عین میرے عقب میں تھی مجھ سے کہا نظر الہی تم نے کیا کیا۔میںنے ڈینیش مندوب کی بات انہیں بلائی۔انہوں نے حیران ہو کہ دریافت کیاکه اگر تمہاری تمام ترامیم منظور ہوگئیں توتم تقسیم کے حق میں رائے دو گے ؟ ظفراللہ ایں۔ہرگز نہیں ہم پھر بھی پسند در مخالفت کریںگے لیکن اتنا تو ہوگاکہ تقسیم کا منصوبہ بہت کمزور ہو جائے گا اور اگر منصوبہ منظور ہوہی گیا تو اتنا برا نہیں ہو گا جتنا اس وقت ہے۔استید حمال الحسینی - ہمارے لئے تو سبری مشکل ہوگی۔ظفر اللہ خان۔آپ عرب ریاستوں کے نمائندوں سے کہدیں کہ دہ بیشک ترمیم کے حق میں رائے نہ دیں۔غیر جانبدار رہیں۔السید جمال المحسینی - مشکل تو پھر بھی حل نہیں ہوتی۔ظفر اللہ خاں۔کیا مشکل ہے ؟ استید مال الحسینی مشکل یہ ہے کہ اگر یتیم ہمارے حقوق کو واضع طور پر نہ کرنے والی نہ ہوئی تو یہ ہے لوگ اس کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے اور تمہیں سخت نقصان پنچے گا۔مہربانی کرو اور کوئی ترمیم پیش نہ کرو۔میں خاموش ہو گیا۔قواعد کے مطابق کمیٹی میں سر تو بہ کثرت آراء کے ساتھ منظور ہو جاتی ہے۔چنانچہ کھٹی تقسیم کامنصور منظور لیکن سمبلی کے اسلام میں براہم معامے کے متعلق بخونید کی منظوری کے لئے ہم آرامی تاید نادم ہوتی ہے۔اپ ماری کوشش رہتی کہ قسم کے تم میں دو تہائی کشت پر نہ ہو۔اس بل میں بھی سب خاص لمبی ہوگئی۔تقریروں کی اند میں کیا امیدی نے ملک کی تقسیم کی تجویز منظور نہیں ہوگی۔نمازہ تھا کہ نمبر کے آخری بدھ کے دن رائے شماری ہوجائے گی۔بعض مالک کے متعلق ابھی پختہ علم نہیں تھاکہ وہ کس طرف رائے دیں گے۔منا لا بی بی کی طرف سے ابھی اظہار رائے نہیں ہوا تھا۔میں فاشنگ جانے سے قبل لائبیرین وفد کے سربراہ مسٹرڈ نہیں کو ملنے کیلئے والڈارف اسٹوریا ہوٹل گیا۔وہ اسمبلی جانے کو تیار تھے۔میں نے ان کی رائے معلوم کرنی چاہی۔انہوں نے کہا میری ذاتی ہمدردی تو یروں کے ساتھ ہے اور ابھی تک میری حکومت کی ہدایت بھی کی ہے ک تقسیم کے خلاف رائے دی جائے لیکن امریکہ کا دبا اوم پر |