تحدیث نعمت — Page 521
۵۲۱ تھے۔میری تقریر کا پہلا حصہ تو تاریخی اور واقعاتی تھا جس کے بعض حصوں سے بعض عرب مندوبین بھی ناواقف تھے۔جب میں نے تقسیم کے منصوبے کا تجزیہ شروع کیا اور اس کے ہر حصہ کی نا انصافی کی وضاحت کرنی شروع کی تو عرب نمائندگان نے توجہ سے سنا شروع کیا۔تقریر کے انتقام پر ان کے چہرے خوشی اور طمانیت سے چمک رہے تھے۔اس کے بعد اس معاملہ میں عرب موقف کا دفاع زیادہ تر پاکستان کا فرض قرار دیدیا گیا۔تقریر یں تو عرب مند و مین کی طرف سے بہت ہوئیں اور بعض ان میں سے ٹھوس اور موثر دلائل سے آراستہ بھی تھیں لیکن عرب فصاحت کا اکثر حصہ جذباتی رنگ لئے ہوئے تھا اور وقت کا بہت سا حصہ انہوں نے یہ ثبت کرنے کی بے سود کوشش میں فر کیا کہ فلسطین میں جو سیہودی اگر آباد ہو رہے ہیں ان میں سے اکثر فل ابراہیم ہی نہیں بلکہ روسی قبلی بنام ازار سے ہیں جن کے آباؤ اجدادنے ایک وقت میں یہودی مذہب اختیار کر لیا تھا۔عرب موقف ہر سہلو سے اس قدر مضبوط اور قرین انصاف تھا کہ اسے تقویت دینے کے لئے ایسے غیرمتعلق دلائل کی طرف رجوع کہ نیا دراصل اسے کمزور کرنا تھا اپ معلوم ہوتا تھا کہ عرب مندوبین نے مرکزی ہدایت کے ماتحت اپنے دلائل اور تقریروں کو ترتیب نہیں دیا تھا جو کچھ کسی کے زمین میں آجاتا وہ اسے بیان کرنے سے رک نہ سکتا بحث کے دوران ہی میں ظاہر ہونا شروع ہو گیا کے تھا کیٹی کا فیصلہ دلائل یا انصاف کی بناپر نہیں ہو گا۔کمیٹی میں نیوزی لینڈ کے نمائندے سر کارل برنڈ سن تھے۔میری ایک تقریر کے بعد کسی سے نکلتے ہوئے مجھ سے فرمایا کسی اچھی تقریر تھی۔صاف واضح ، پر دلائل اور نہایت موشه سر کارل چونکہ خود نہایت اچھے مقرر تھے مجھے ان کے اظہار تحسین سے خوشی ہوئی۔میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دریافت کیا سر کارل ! پھر آپ کی رائے کس طرف ہوگئی ہے وہ خوب ہنسے اور کہا ظفر اللہ اے اہل اور معاملہ ہے" جب بحث کا سلام ختم کر تقسیم کے منصوبے کے تفصیلی حصوں پر رائے زنی شروع ہوئی تو کیٹی کے اجلاس کے دوران میں سی ڈنمارک کے مندوب میرے پاس آئے اور فرمایا واقعات اور تمہار ہے دلائل سے مات ظاہر ہے کہ نسیم کا منصوبہ بالکل غیر منصفانہ ہے اور اس سے عربوں کے حقوق پر نہایت مضراثر پڑے گا بکنڈے نیویا کے تمام ملک کے نمائندوں کی یہی رائے ہے۔علم ہوتا ہے تقسیم کی جو یہ ضرور منور ہو جائے گی کیونک امریکہ کی طرف سے ہم پر بہت زور ڈالا جارہا ہے میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوںکہ کمیٹی میں عام طور پر یہی اساس ہے کہ ہم امریکہ کے دباؤ کے ماتحت ایک بے انصافی کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔اس احساس کا تمہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔تم نے اپنی تقریروں میں علاوہ تقسیم کی سرے سے مخالفت کرنے کے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اس کی بعض سجاد نمی ظاہرہ طور پر ر حقوق کو غصب کرنے والی این شادیانہ کاری کی 9 فیصد آبادی رب ہے اسے اسرائیل میں شامل کیاگیا ہے اسی طرح اور بہت سی ایسی خلاف انصاف تجاویز ہیں۔اس وقت کمیٹی کی کاروائی بڑی جلدی میں ہو رہی ہے