تحدیث نعمت — Page 499
۴۹۹ قائد اعظم سے رخصت ہو کر یں لندن چلا گیا۔جب وزیر اعظم اٹلی نے کی آزادی ہند کا مسودہ ایوان عام یں پیش کیا تو ں ایوان کی گیلری میں موجود تھا۔وزیر اعظم کی تقریر بہت ان اور امی تھی لیکن ایک ایسے مجھے حیرانی بھی ہوئی اور پریشانی بھی۔انہوں نے تقریر میں کہا ہم تو چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد لارڈ مونٹ بیٹن ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے پہلے گوری منزل ہوں لیکن افسوس ہے کہ مٹر جناح رضامند نہ ہوئے۔قائداعظم کے انکار پر سٹریٹی کا اظہار نہیں مجھے پن نہ ہوا۔اول تو اس تفصیل کا ذکر مزوری نہ تھا ویسے اگر وزیر اعظم کی رائے میں ذکر ضروری تھا تو صف یہ کہنامناسب ہوتا کہ اس تجویز پر اتفاق نہ ہوا۔قائداعظم کا نام لیکر افسوس کے اظہارسے مترشح ہوتا تھا کہ اس تجوید کے ناکام رہنے پر وزیراعظم کو قائد اعظم سے ذاتی رنجش ہے اور انہوں نے ایوان کے سامنے اس کوشیش کو یوں مشتہر کیا۔بعد میں متعدد مواقع پر ان سے ایسی تحرکات سرزد ہوئیں جن سے میرے اس قیاس کو تقویت پہنچی۔یوں بھی سٹرائیل حسن اخلاق کا نمونہ نہیں تھے۔سر سیموئی محور تو گول میز کانفرنس کے دوران میں وزیر مند تھے اور بعد میں وزیہ بحر اور پھر وزیر خارجہ ہوئے اور مور لاوال پکیٹ کے رد عمل کے نتیجے میں وزارت سے مستعفی ہوئے اپنی ہسپانوی سفارت کا عرصہ میڈرڈ میں گزار کر واپس آچکے تھے۔میٹر میں حسن کارکردگی کے صلے میں وہ دائی کونٹ بنادیے گئے تھے اوراب لارڈ ٹمپل وڈ کے نام سے ایوان امراء کے کین تھے۔میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے لندن آنے کی غرض بیان کی۔انہوں نے فرمایا میں اس معالمے میں ایوان امراء می کچھ وضاحت حاصل کرنے کی سعی کروں گا۔جب مسودہ ایوان عام سے منورہ کا ایوا امراء میں زی کیت آیا نوبت کے دوران میں لارڈ ٹیمپل رونے سوال کیا کیا والیان ریاست کے متعلق ہو شق اس مسودہ میں ہے اس سے یہ مراد ہے کہ آزادی کے بعد ایک والی ریاست کو اختیار ہو گا کہ ریاست کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے یا پاکستان کے ساتھ یا اگر نہ کرے تو دونوں میں سے کسی کے ساتھ الحاق نہ کرے بلکہ آزاد ہے؟ ایوان امراء میں مسودے کی کلمات نائب وزیرہ ہند لارڈ سٹویل کے پر دی تھی انہیں اس سوال کی توقع بھی نہیں تھی اور سوال ان کے لئے پریشان کن بھی تھا۔وزیر اعظم بہت محتاط تھے کہ پارلیمنٹ میں سود کے زیر بحث آنے پر دالیان ریاست کے متعلق کسی ایسی بات یہ زور نہ دیا جائے جس پر کانگریس لگڑ بیٹھے۔شق متعلقہ کے الفاظ واضح تھے اور انکی صحیح تعبیر وہی تھی جو لارڈ ٹیمپل وڈ نے اپنے سوال میں پیش کی لیکن دار و سویل صاف الفاظ میں اسے تسلیم کرنے سے جی چراتے تھے چنانچہ انہوں نے جوابا صرف اپنے سرکو اثباتی جنبش دیدی جس پر لارڈ میپل و نے فورا یہ کہ کران کی نیت کر کو یہ لیکا ریڈ کرا دیا :- 4 I TAKE IT THAT THE Noble Lord's Nod Confirms My ASSUMPTION" ر میں سمجھتا ہوں محرز لارڈ نے سر جا کر میری تغیر کی تصدیق کی ہے )