تحدیث نعمت — Page 491
ہو اور سارے ملک کی مرکزی حکومت وفاقی ہو جس میں یہ تین علاقے منسلک ہوں مرکزی حکومت کے اختیارات امور خارجہ امور متعلقہ دفاع ، صیغہ مواصلات اور ان محکمہ جات کے متعلقہ مالیات تک محدود ہوں۔باقی سب امویہ اور صیغہ جات کے اختیارات علاقائی حکومتوں کے سپرد ہوں۔یہ نظام دس سال تک جاری رہے۔دس سال کی میعاد پوری ہونے پر علاقہ ( ا ) اور (۲) کو اختیار ہو کہ اگر ان میں سے ایک یا دونوں چاہیں تو وفاقی نظام سے علیحدہ ہو کہ اپنی پنی علیہ و آزاد حکومت قائم کرلیں اس امر کا فیصلہ علاقے کی مجلس قوانین ساز کے اختیار میں ہو۔علاقہ منبرا کے متعلق یہ شرط بھی رکھی گئی کہ گر علاقائی مجلس وفاقی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کرے تو آسام کے نمائندگان کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنی کثرت رائے سے یہ فیصلہ کریں کہ اس علاقے میں شامل رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔اور علاقے نمبر سے علیحدگی کی صورت میں وہ علاقہ نمبرس میں شامل ہو جائیں گے۔مولانا آزاد کا کانگریس کی صدارت سے استعفے دن کے منصوبے کی منظوری تک کانگریس کے صدر مولانا اور ان کی جگہ پنڈت نہرو کا انتخاب - ابوالکلام آزاد تھے۔جب لیگ اور کانگریس نے منصوبے کی منظوری دیدی تو مولانا آزاد نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ملک کے دشوار اور پچیدہ آئینی مسئلے کا حل میسر آگیا ہے کانگریس کی صدارت سے استعفی دیدیا اور پنڈت جواہر لال نہرو کا نام کانگریس کی صدارت کے لئے تجویز کیا اوران کے انتخاب کی موثر تائید کی چنانچہ نیت صاحب کا انگریس کے صدر منتخب ہو گئے۔بعد کے حالات کی روشنی میں مولانا صاحب نے اپنے اس اقدام کو اپنی ساری سیاسی زندگی کا نہایت مضرت رساں اقدام قرار دیا۔گاندھی جی اور پنڈت نہرو کی کینٹ مشن کے کانگرس کا صدر منتخب ہوتے ہی پنڈت نہرونے کی اش منصوبے کی بعض شقوں کی اپنی تعبیریں کے منصوبے کی بعض شقوں کی ان تغیر کا اعلان یا شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر یا مثلا آسام کے متعلق انہوں نے رانی کو صوبے کی متعلقہ فرمایا شق کی رو سے آسام کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مجلس قانون سانہ کے ذریعہ ابھی اس فیصلے کا اعلان کر دے کردہ سرے سے علاقہ نمبرا میں شامل نہیں ہونا چاہتا اور شروع سے ہی وہ علاقہ نمبر ۳ میں شامل ہو جائے۔یہ تغیر منصوبے کے الفاظ کے بالکل خلاف تھی۔اور منصوبے کے الفاظ ہر گز اس تعبیر کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔لیکن پنڈت صاحب بحیثیت صدر کانگریس اپنی اس تغیر اور دیگر غیرت پر جو اسی قماش کی تھیں مصر تھے جیس کے نتیجے میں یہ صورت پیدا ہوگئی کہ منصوبے پر الفاق کا اظہار کرنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد اپنے صدر کے مند سے کانگریس نے عملاً منصوبے کو رد کر دیا۔قائد اعظم کے لئے اب کوئی چارہ نہ رہا کردہ اعلان کردیں کہ کانگریس کی اس بد عہدی کے پیش نظردہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں شریک نہیں ہو سکتے۔اس پر لارڈ ویول ردائے ہند نے گاندھی جی اور نیت ہند کو ملاقات کے لئے بلایا اور بہت کوشش کی کہ وہ رائہ رائے کو یہ یقین