تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 27 of 736

تحدیث نعمت — Page 27

۲۱ کر امویل روڈ لندن میں ناشتے سے فارغ ہو کر ملتان کے رہنے والے شیخ عبد الرزاق قصاب تو قریب ہی رہتے تھے ہیں ۲۱ کر امویل روڈے گئے۔یہ عمارت لندن میں ہندوستانی طلباء کا مرکز تھی میرا اندازہ ہے کہ وہ تمام ادارے جن کے دفاتہ اس عمارت میں تھے انڈیا آفس کی زیر نگرانی کام کرتے تھے غالباً یہ وجہ تھی کہ تو ہندوستانی طلباء سیاسیات میں عملی دلچسپی رکھتے تھے وہ ان اداروں اور ان کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان سے دورہ دو کہ رہتے تھے۔چودھری عبدالحق صاحب غالباً اسی گروہ میں سے تھے اس لئے انہوں نے یہاں جانے کیلئے ہمیں شیخ عبدالرزاق صاحب کے سپرد کیا۔سرٹامس آرنلڈ کی شخصیت۔ہندوستانی طلبا کے مشیر سر مس آرنلڈ کا دفتراسی عمارت میں تھا سوٹا مس یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر بھی تھے۔وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر اور ایم اے اور کالج علی گڑھ کے پر نہیں بھی رہ چکے تھے علی گڑھ کے قیام کے زمانے میں مولانا شبلی کی صحبت سے سفید ہونے رہے تھے۔انہیں اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت ادا کرنے کی توفیق ملی تھی جس کی وجہ سے میرے دل میں ان کا بہت احترام تھا۔انہوں نے تبلیغ اسلام پہ ایک مستند کتاب تصنیف کی تھی جس کا نام دہی پر ایک آن لام" ہے اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلانے کا الزام نہ صرف واقعات کے ہی خلاف ہے بلکہ اسلام کی تعلیم کے بھی خلاف ہے یہ تصنیف اس لحاظ سے بھی بہت قابل قدر ہے کہ یہ ایسے مانے یں لکھی اور شائع کی گئی جب کی انگریز کے قلم سے کلی مین لکھا جانا ایک استثنائی امر تھا۔فناه امس الجراء میں بیک - ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کا دفتر بھی اسی عمارت میں تھا۔اس ایسوسی ایشن کی سکرٹیری مس بیک تھیں جن کے بھائی مسٹر بیک ایم اے او کالج علی گڑھ کے بہت ہردلعزیز پر نسپل رہ چکے تھے۔یہ خاتون نہایت حلیم طبع مشفق اور ہمدرد تھیں۔بہت سے ہندوستانی طلبا السیسوسی ایشن کے مبر تھے پنڈ سالانہ پانچ شانگ تھا مہینے میں دو ایک بار ایسوسی ایشن کی طرف سے کوئی نہ کوئی تقریب ایسی منعقد کی جاتی تھی تھیں میں ہمیں ایک دوسرے سے اور ہندوستان کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے انگریز شرفاء سے ملنے کا موقعہ میسر آجاتا تھا۔نارتھ بردک سوسائٹی کا دفتر بھی اسی عمارت میں تھا۔کبھی کبھی یہ سو ئی بھی ایسٹ انڈیا ایسوسی نشین کے ساتھ ملک مشترکہ تقریب کا انتظام کرتی تھی۔بعد میں ہماری تحریک پر طلبا کی سہولت کیلئے یہاں ایک مختصر سی لائبریری کا انتظام بھی ہو گیا۔جس سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا۔قانون کے طلباء کی مساعی سے کبھی کبھی کسی قانونی مسئلہ پہ موٹ (مجلس مباسہ کا انتظام بھی ہو جاتا تھا۔ایک مختصر مطعم بھی قائم کیا جہاں مناسب قیمت پر پہنچ اور بچائے میسر آجاتے تھے۔