تحدیث نعمت — Page 26
۲۶ دن کی روشنی نے ساتھ دیاہم یورپ کے خوشنما مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے اور اسے کھانے کا بدل شمار کر لیا ۱۵ ستمبر کو صبح 4 بجے بیل گاڑی میونخ پہنچی۔یہاں گاڑی بدلی اور ہم آسٹنڈ جانے والے ڈبوں میں سے ایک میں سوارہ ہو گئے۔ساڑھے سات بجے صبح میونخ سے روانہ ہو کر رات کے دس بجے اسٹینڈ پہنچے۔گاڑی ڈرور جانیوالے جہانہ کے سامنے آکھڑی ہوئی اور ہم گاڑی سے انتہ کہ جہاز پر سوار ہو گئے۔۱۶ ستمبر صبح ۴ بجے کے قریب ڈور پہنچے۔ابھی اندھیرا تھا اور ملکی ملکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔سامان کے معائنے وغیرہ سے فارغ ہو کہ ہم لنڈن جانے والی گاڑی کے دوسرے درجے کے ایک ڈبے میں سوالہ ہو گئے۔اس ڈبے میں ایک انگر یہ میاں بیوی پہلے سے بیٹھے تھے۔جب ہم اطمینان سے بیٹھ گئے تو مولوی محمد علی حساب نے فرمایا۔ڈویے میں ایک خاتون بھی سیٹیں نہیں اسلئے اپنی ٹوپیاں سروں سے اتار لو۔میں نے کہا۔جو مرد ان کے ساتھ بیٹھا ہے وہ توٹوپی پہنے ہوئے ہے۔مولوی صاحب نے فرمایا وہ آداب نہیں جانتا۔ہم نے مولوی صاحب کی ہدایت کی تعمیل میں ٹوپیاں اتار دیں۔ایل کے تمام سفر میں ہم نے ڈبل روٹی اور پھل پہ گزارہ کیا، کیونکہ کھانے کی گاڑی میں جانے کے خلاف مولوی محمد علی صاحب کا رولنگ قائم کرنا۔ڈور سے روانہ ہونے کے دو گھنٹے بعد ہم لندن چیرنگ کر اس اسٹیشن پہنچ گئے۔لندن میں درود - فیروز پور کے چودھری عبد الحق صاحب جو گورنمنٹ کالج کے طالب علم رہے تھے او مجھے بھی جانتے تھے۔مولوی محمد علی صاحب اور شیخ محمد سعید صاحب کے استقبال کیلئے اسٹیشن پر تشریف لائے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھ سے دریافت کیا آپ کہاں جائیں گے ؟ میں نے کہا میرے پاس سرٹامس آرنلڈ کے نام کی چھٹیاں میں پہلے تو میں اس کرد مویل روڈ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔پھر جہاں وہ فرمائیںگے چلا جاؤں گا۔چودھری صاحب مسکرائے اور فرمایا۔یہ تو ان کے دفتر کا پتہ ہے اور دفتر کے کھلنے میں تو ابھی دیکہ ہے آپ ہمارے ساتھ ہی آجائیں۔میں بخوشی ان کے ساتھ ہو لیا اور اللہ تعالی کا بہت شکر ادا کیا کہ اس نے اپنے فضل و رحم سے خود ہی میرے لئے سامان مہیا فرما دیا کیونکہ میں دل میں کچھ پریشان ہو رہا تھا کہ لندن تو پہنچ گئے اب آگے کیا ہو گا؟ چودھری عبد الحق صاحب ہم سب کو سیکسی میں بٹھا کر اپنی جائے قیام پر (۵) دی گرد و سیر سمتھ ) لے گئے جہاں ہم سب کیلئے رہنے کی گنجائش ہوگئی۔وہاں پہنچے تو ناشتے کا وقت قریب تھا۔ہم ہاتھ منہ دھوکہ ہم تو تھا۔منہ ناشتے کیلئے تیار ہو گئے۔۳۶ گھنٹے سے زائد ریل کے سفر کے بعد جس کے دوران ہم نے مولوی محمد علی قصاب کی ہدایت کے ماتخت ڈبل روٹی اور پھل پر گزارہ کیا تھا۔یہ ناشتہ میں نہایت لذیذ معلوم ہوا اگر چہ بہانہ کے بہت ممنوع کھانوں کے مقابلے میں یہ بالکل سادہ تھا۔