تحدیث نعمت — Page 397
اور اپنے مکان پر ہی رکھوں گا کیونکہ تین چار روز تک متواتر علاج کی ضرورت ہے۔اور میرا ہر وقت قر اضروری ہے تاکروں کی حالت اور خون کے دباؤ کے مطابق علاج میں تبدیلی ہوتی رہے۔ساتھ ہی والدہ صاحبہ کو تسلی دی کہ تین چار روز کے علاج کے بعداللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام تکلیف دور ہوجائے گی۔چنانچہ سید ندوی کے سفر کی تیاری کرلی گئی انتہائی ی والدہ نے ارا کیا کہ وہ ضروروالدہ صاحبہ کےساتھ لی جائیں گی یہ انوار کادن تھا اور دوستی دن میری حاضری شملہ میں لازم تھی۔اسلئے یہ انتظام کیا گیا کہ میں ان سب کو کا لنکا ریل میں سوار کرادوں اور پھر آنیوالے ہفتہ کے دن ولی والدہ ماتہ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔چنانچہ ہم سب شام کے وقت ان کا پہنچے گئے اور ان سب کو آرام سے ریل میں سوار کر دیا گیا۔میں نے والدہ صاحبہ سے رخصت چاہی وہ لیٹی ہوئی تھی میں نے اجازت طلب کی تو اٹھ کھڑی ہو میں اور میری پیشانی کو بوسہ دیکر و عادی۔ڈاکٹر صاحب نے انہیں کھڑے ہوئے دیکھ تو شور مچا دیا ہے یا بے لے جی! آپ کیا کر رہی ہیں فوراً لیٹ جائیں۔آپ کو تو بیٹے لیے بھی حرکت نہیں کرنی چاہیے۔والدہ صاحبہ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا بیٹا لیٹے رہنے کیلئے تو بہت وقت ہے ظفر اللہ خاں کواب پھر ملناش ید ہویا نہ ہو۔دوسرے دن شام کو دہلی ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ حالت پہلے سے بہتر ہے البتہ دو پر کے وقت استلا کی شکایت ہوگئی تھی۔جس سے دل پر کچھ پوچھ بڑھ گیا تھا لیکن یہ حالت ایک و گھنٹوں کے بعد رفع ہو گئی۔امی منگل کے دن دوبار پہلی سیفون کیا۔وہی جواب ملا تو پہلے دن کا تھا۔ارمی بدھ کے دن صبح کو بھی وہی خوا ملابہ پر کو دہلی سے ملعون ہوا کہ دوپہر کے بعد دل کی حالت بگڑ گئی تھی مگر یکے سے پھر مل گئی۔اب نسبتا آرام ہے جوش میں ہیں اور باتیں کر رہی ہیں لیکن حالت ایسی ہے کہ تمہیں عد دلی پہنچے جانا چاہئے۔مجھے دور سے دن شملہ میں ایک ایسا ضروری ساری کام تھا کہ میں سہ پہر سے قبل روانہ نہیں ہوسکتا تھا۔ول مٹی جمعرات کی صبح کو ٹیلیفون پر معلوم ہوا کہ سال پہلے سے بہتر ہے لیکن پھر بھی میں نے احتیاطی اپنے تینوں بھائیو ا دیا ہے کہ ایل این ائی اور میر صاحب کوبھی ساتھ لینے آئیں یا ال ای تو بدھ کی رات کوہی لاہور سے روانہ ہو گیا تھا اور جمعرات کی صب کو دہلی پہنچ گیا تھا۔باقی م س ا ر ی جمعہ کی صبح کو ہی پہنچ گئے۔ڈاکٹر لطیف صاحب نے بتایاکہ امتہ المنی کی والدہ نہایت جانفشانی کے ساتھ والدہ صاحبہ کی خدمت میں لگی رہی ہے وران صحت در آرام کا کچھ نیا نہیں کیا اور پرمیں نے خودبھی مشاہدہ کرلیاکہ ہم سب یوں ہوں اور بیٹی سے دو مق مت ادا نہ ہوسکا واستہ امی کی والدہ نے ادا کیا۔الہ تعالی اسے برائے دار عطافرمائے آمین۔انجے کے قریب والدہ صاحب نے مجھے فرمایا، اب پھر میں نے اسے استعمام تصور کر کے جلدی سے عرض کی اب پھراللہ تعالی کا فضل چاہیے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ پرسوں کی نسبت آپ کی حالت بہت اچھی ہے انشاء اللہ آپ کو بہت جلد بحت ہو جائے گی۔والدہ صاحب نے فرمایا آپ پر مجھے قادیان سے چلو میں نے من کی د دا اعلان کا پورا نظام نہیں ہو سکے گا