تحدیث نعمت — Page 396
شملہ پہنچ کر سہی رات ہی والدہ صاحبہ نے رویا میں دیکھا کہ والد صاحب تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں میں آپ کے لئے پالکی لے آیا ہوں اب آپ جس وقت تیار ہو جائیں ہم روانہ ہو جائیں۔والدہ صاحبہ نے کہا میں تو ستہجد کے وقت تیار ہو جاؤں گی اور اسی وقت چلنا بھی مناسب ہوگا۔تاکہ زیادہ گرمی ہونے سے پہلے پہلے سفر طے کر لیا جائے۔والد صاحب نے فرمایا بہتر ہو گا کہ بجے کے بعد روانہ ہوں جیسن کے ناشتہ سے فارغ ہو جائیں ورنہ بچوں کو تکلیف ہوگی۔والدہ صاحبہ نے دوسرے دن خواب بیان کرتے ہوئے پالکی کی نہ بائش کی تفاصیل بھی بیان کیں کہ ایسی خوبصورت اور اس قسم کی لکڑی تھی اور فلاں حصے چاندی کے تھے۔پانچ دن تو اسی صورت میں گزر گئے کہ کوکمزوری تھی لیکن کس قسم کی تشویش نہیں تھی تہجد کے لئے اورباقی نمازوں کے لئے خود ہی اٹھ کہ غسل خانہ میں وضو کے لئے تشریف لے جاتی تھیں اور جائے نماز پر نمازیں پڑھتی تھیں۔اکثر وقت پلنگ پر بیٹھے ہوئے گزارتی تھیں۔چوتھے روز گوڈاکٹر صاحب نے بینگ سے اتر نا منع کر دیا تھا لیکن پھر بھی 4 مئی جمعہ کے دن عصر کے وقت جب میں ان کے پاس گیاتو میں نے دیکھا کہ بر آمد میں جائے نماز پر نمانہ پڑھ رہی ہیں۔جب نمانہ ختم کر چکیں تومیں نے عرض کی کہ ڈاکٹر صاحب نے تو پلنگ سے ہلنے کی اجازت نہیں دی آپ اس حالت میں ہیں۔فرمایا نماز پڑھنے میں کوئی تکلیف نہیں۔پھر میں نے کہا چلئے میں آپ کو بلینگ تک پہنچا آؤں اور میں سہارا دیکر ملنگ تک لے گیا انہوں نے اظہار شفقت کے طور پر سہارا لے لیا لیکن اس وقت ابھی نہیں سہارے کی ضرورت نہ تھی۔مغرب کے بعد میں دفتر کے کرہ میں بیٹھ ہوا کام کر رہا تھاکہ مجھے اطلاع ملی کہ والدہ صاحب پرایک قسم کی بیہوشی کی حالت طاری ہو گئی ہے۔میں فورا ان کے کرہ میں گیا۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ضعف کی وجہ سے کچھ تم بیہوش سی ہورہی ہیں۔لیکن آہستہ آہستہ پاؤں دبانے سے پورا ہوش آگیا اور باتیں کرنی شروع کر دیں۔ماری ہفتہ کے دن ان کی حالت پہلی شام کی حالت سے توبہتر تھی۔لیکن کمزوری بہت محسوس کرتی تھیں دوران گفتگو میں انہوں نے کہا اگر ڈاکٹر لطیف یہاں ہوتے تو مجھے جلد صحت ہو جاتی۔میں نے فوراً ڈاکٹر لطیف صاحب کو بلی تار دیدیا کہ والدہ صاحبہ آپ کو یاد فرماتی ہیں وہ دوسرے دن صبح شملے پنچ گئے۔والدہ ماحول نہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئی پلنگ پر اٹھ کر بیٹ گئیں ڈاکٹرصاحب کو پیار کیا اور سکرا کر کہا آ کے اچھی ہو جاؤں تو سمجھوں بڑے ڈاکٹر ہو۔ڈاکٹر صاحب نے کہا اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔دیکھئے میں آپ کا نار ملتے ہی گیا ہوں والدہ صاحبہ نے کہا میں نے تو تارہ نہیں بھجوایا اور میری طرف دیکھا میں نے عرض کی کہ کل آپ نے ڈاکٹر صاحب کو یاد کیا تھا۔اسلئے میں نے تارہ دید یا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے لئے شملہ میں ٹھہر نا نہایت مضر ہے یہاں بلندی کی وجہ سے دل پہ بہت بوجھ ہے میں انہیں آج ہی اپنے ساتھ دلی لے جاتا نگا