تحدیث نعمت — Page 379
کہنے لگے ہاں اس طریق سے ضرور کچھ اصلاح ہو جائے گی۔ہمارا خیال اس طرف نہیں گیا۔ائیر کنڈیشن ڈبے پھیلانے کی تجونیہ سرگتری رول انجنیر تھے۔میںنے ان سے مشورہ کیا کہ کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ریل کے ڈبوں کے اندر مٹی نہ آئے اور گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا کا انتظام ہوسکے۔انہوں نے کہا دونوں باتیں ہوسکتی ہیں۔میں غور کر کے منصوبہ تیار کروں گا۔آخر با ہمی مشورے سے طے ہوا کہ شمالی ہند میں بدن سے ٹھنڈے کئے ہوئے ڈبوں کا تجربہ کیا جائے اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہو تو اسے وسعت دی جائے۔اگر چہ املی میں اس تو نہ ہی کچھ مخالفانہ تنقید ہوئی لیکن یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوا اور ایسے ڈوبے شمالی ہند کی تیز گاڑیوں میں مہیا کر دیئے گئے سرگستری رسل کی یہ بھی جنونی تھی کہ ایک پوری ٹھنڈی ٹرین کا بھی تجربہ کیا ہے جس میں صرف دو درجے ہوں۔ایک سونے والے ڈیوں کا اور دوسرا بیٹھنے والے ڈبوں کا۔ان کا اندازہ تھا کہ سونیوالے ڈبوں میں فی کس کرایہ اول درجے کے کرائے سے کچھ زیادہ رکھنا پڑے گا لیکن بیٹھنے والے ڈبوں میں کرایہ درمیانے درجے کے کرایہ کے برابر ہوگا۔ان کا خیال تھا کہ اگر پوری تمرین کو ان سے طاقت لیکر ٹھنڈا کرنے کا انتظام کیا جائے تو ٹھنڈا کرنے کا اوسط خرچ ہر بے کو برف سے ٹھنڈا کرنے کی نسبت کم ہوگا۔سردیوں میں ٹرین کو گرم رکھا جاسکے گا۔مجھے اس منصوبے میں بہت دلچسپی تھی کیونکہ اس سے عوام کیلئے آرام سے سفر کرنے کے انتظام کی ابتدا ہوسکتی تھی لیکن ایک تومیں نے شہداء میں ریل کے محلے کا چارج چھوڑ دیا پھر نہ میں دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی اور اس سم کے منصوبوں میں چھی کم ہوگئی اور توجہ زیادہ اہم امور کی طرف منتقل ہو گئی۔افسوس ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بیس سال بعد بھی ابھی عام مسافروں کے لئے یہ سہولت مہیا نہیں کی جاسکی۔حالانکہ عت ہے یہ میں مبصرین کی رائے تھی کہ اس کے مہیا کرنے کے راستے میں کوئی نا قابل حل مشکل ہے نہیں۔میرے نزدیک علاوہ آرام کے اس منصوبے کے جاری کرنے سے معاشرتی اور تمدنی فوائد بھی مرتب ہو سکت ہے حکومت بر طانیہ سے آٹو واٹریڈ تجارت کے محلے میں بہت سے دلچسپ اور اہم مسائل زید اگر یمینٹ کی ترمیم کے لئے گفتگو غور آتے رہتے تھے جن میں سے بعض پر اسمبلی میں بحث تھی چھڑ جاتی تھی اور سوال جواب کا سلسلہ مونسب کے متعلق مجاری رہتا تھا۔سب سے اہم مسئلہ ہو مری وزارہ کے زمانے میں نہ یہ بحث آیا آٹو و استجارتی معاہدے کا مسئلہ تھا۔تجارت کے محکمے کے سیکر یٹری مسٹر میں سٹوارٹ تھے ہو سرفنڈ لیٹر سٹوارٹ نائب وزیر بہار کے برادر اصغر تھے بعد میں وہ خود بھی کونسل کے رکن ہوئے۔اور پھر صوبہ بہار کے گورنہ ہوئے، تجارت کے محکمے کے سکریڑی ہونے کے زمانے میں وہ بہت محنت سے کام کرتے تھے پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے پر ان کا نوٹ بہت مفصل اور نہایت واضح ہوتا تھا۔ان کا نوٹ پڑھ لینے کے بعد مجھے مزید مطالعہ کی بہت کم ضرورت رہ جاتی تھی۔تجارتی معاہدے کی بحث کی تیاری میں انہوں نے بہت محنت کی