تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 378 of 736

تحدیث نعمت — Page 378

PLA کہ یور پی سیر نہ ہندوستانی افسروں کے ساتھ دوستانہ رواداری کا سلوک روا نہیں رکھتے لیکن میں نے دیکھا کہ میری باتوں کی طرف سے زیادہ توجہ جی آئی پی ریلوے نے کی۔اس ریلوے کے ایجنٹ مسٹر ولسن محمد سے ملتے رہتے تھے۔زبانی بھی بتاتے تھے اور رپورٹیں بھی بھیجتے رہتے تھے کہ انہوں نے کیا کیا اصلاحی اقدام کئے ہیں۔جب سر اٹ رہوے بورڈ میں آگئے۔اور کرنل کا رس ان کی جگہ نارتھ ویٹرن ریلوے کے ایجنٹ ہوئے تو انہوں نے بھی ان امور کی طرف و شروع کردی، دوسری بیوی پر بی هسته است کچھ توجہ ہونے کی، لیکن بہت حدتک اینٹ کی شخصیت یا محمد ہوتی یا روک بن جاتی۔میں جب دورے پر جانا تو جو امور قابل اصلاح نظر آنے واپسی پران کا ذکر یف کشتر سرگستری ایل سے کرتا۔وہ بہت اچھے رفیق ثابت ہوئے۔ہم آپس میں آزادی سے تبادلہ خیالات کرتے۔میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور وہ میری باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے اور انکو عملی جامہ پہنانے کی تمام کرتے۔چونکہ ہر شخص کو سیل پر سفر کرنے کا اتفاق ہوتا ہے اسلئے ہرشخص کو ریل کے محکمے میں دلچسپی ہوتی ہے۔سمبلی میں بھی ریل کے محکمے پر سوالات کی بوچھاڑ ہوتی ن کے ذریعے بھی مجھے عوام کے احساسات اور ان کی شکایات کا علم ہوتا رہا ور جہاں اصلاح کی گنجائش ہوتی میں ملک کو توجہ دلانا۔پروفیسر رنگا (مدراس نے ایک سوال کے ذریعے توجہ دلائی کہ جنوبی شہد کی ایک ایکسپریس گاڑی کے تیرے اور درمیانے درجے کے غسل خانوں کی حالت رات کے پچھلے حصے میں ناگفتہ بہ مورتی ہے ان کی صفائی کی طرف مناسب توجہ ہونی چاہیے۔محکمے کی طرف سے جواب آیا کہ یہ شکایت بے بنیاد ہے۔اسمبلی میں میں نے جواب میں کہ دیا کہ دریافت پر معلوم ہوا ہے کہ حالت ایسی نہیں جو قابل شکایت ہو لیکن توجہ کی جائے گی۔اس کے بعد جب میں دورے پر جنوبی بن گیا تومیں نے ایک رات کا سفر اس ایک پریس گاڑی سے کیا اور رات کے پچھلے پر دو تین مقامات پر اپنے سیلونی سے نکل کرمیں نے تیسرے درجے کی گاڑیوں کے غسل خانوں کو دیکھا اور ان کی حالت کو بہت کچھ قابل اصلاح پایا ے واپسی پر میں جن اور کان کر تین کمتر ے کی ان میں ایک یہ بھی تھا۔انہوں نے بورڈ کے ایک متعلقہ رکن اور ڈائرکٹر کو مشورے کیلئے جایا۔شکایت کے متعلق تواب کہا نہیں جاسکتا تھاکہ بے نیا ہے کیونکہ یں خود دیکھ آیا تھا لیکن دونوں نے کیا فرید اصلاح کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ تیزرفتار گاڑی ہے رات کے پچھلے جملے میں صرف تین چار مقامات پر تین چار منٹ ٹھہرتی ہے۔ایک مقام پر تین چار منٹ میں دو یا زیادہ سے زیادہ تین ڈلوں کے غسل خانوں کی صفائی ہوسکتی ہے۔اس سے زیادہ صفائی کے موجودہ سٹاف سے توقع نہیں کی جاسکتی اسے کوئی چارہ نہیں۔میں نے کہا ہمدردی ہو اور تخیل پر کچھ زور دیا جائے تو سب کچھ ہو سکتاہے۔کہنے لگے آپ کوئی ترکیب تائیں۔میں نے کہا رات کے دو بجے سے لیکر صبح آٹھ بجے تک چھ سات بار تو گاڑی ٹھہرتی ہوگی ایک نقشہ تیار کروالیا جاے کہ سیلی بار ٹھہر نے پانجن کے عین چھے کے مین ڈالوں کے غسل خانوں کو اچھی طرح سے صاف کردیا جائے۔دوسری بار ٹھہرنے پر ان کے بعد کے تین ارب ڈبوں کے غسل خانے مان کئے جائیں۔اور اسی ترتیب سے صفائی ہوتی رہے ان چھ گھنٹوں میں دو تین بار سب غسل خانے مان ہو جا کریں گے