تحدیث نعمت — Page 353
ال انڈیا کشمیر با کا قیام | حضرت امام جماعت احمدیہ نے شملے کے مقام پر سر کردہ بنائے کشمیر کو نہوں نے خود یا جن کے آبا د نے ترک وطن کر کے پنجاب میں سکوت اختیار کی ہوئی تھی جمع ہونے کی دعوت دی اور کشمیریں صورت حالات کی طرف توجہ دلا کر متحدہ اقدام کا فورت و واضح فرمایا۔اس کےنتیجے میں ا نڈیاکشمی کیٹی کا قیام عمل میں آیا۔اراکین کمیٹی کے اصرار پرامام جماعت احمدیہ نے اس کمیٹی کی صدارت منظور کر لی۔کمیٹی کی طرف سے اس کے نتیجےمیں رامیان شیر کی جدوجہد آزادی کی سرگرمی سے تائید شروع ہوگئی۔گلینسی کمیٹی اور اس کی رپورٹ | واندرا نے ریس کو تیار کردہ حالات کا جائزہ میرپوٹ کریں اور اصلاحی تجاویز پیش کریں۔ان کی رپورٹ کے نتیجے میں بعض ابتدائی اصلاحات عمل میں آئیں۔جناب صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ارشاد کے ماتحت میں بھی متعدد بار سر ریکھنڈ سے ملا اور اس سلسلے میں وائسرائے کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔جناب صدر کیٹی کے ارشاد پر دوائی نے کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے سر پیجینڈ کی رپورٹ پر تبصرہ بھی تیار کیا۔بعض اپیلوں کی پیروی کیلئے چیف جسٹس جموں کو شمیر ہائی کورٹ کے اجلاس میں بمقام جموں پیش ہوا۔سرت کینیڈ گلینسی نے بتایا کہ انہوں نے جن باتوں پر زور دیا ہے ان میں سے دو کے متعلق مہارا حجہ صاحب قطعاً کسی اصلاح کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ وہ ریاست سے دستبردار ہو نا قبول کریں گے لیکن ان دو معاملات میں ہرگز کسی تبدیلی پر رضامند نہ ہوں گے۔ان میں سے ایک تو ریاست میں گائے کے ذبیح کرنے کے سنگین جرم میں عمر قید کی سزا تھی۔اور دوسرا وہ قانون تھا جس کے رو سے ریاستی ہندو مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہو جانے پر مشتر کہ خاندانی جائداد میں اپنے حصے سے محروم ہو جاتا تھا۔آخر کار امرا کی کے متعلق اس قدر تخفیف عمل میں لائی گئی کہ جرم کی متشاعر قید سے کم کر کے دس سال قید با مشقت کر دی گئی حکومت پنجاب کے ایک طبقہ کی طرف سے غلط فہمی جناب امام جماعت احمدیہ نے رنگیلا رسول کی اشات کی بناء پر جماعت احمدیہ کی مخالفت اور ایذارسانی کے بعد سیرت النبی کے جلسوں کا سلسلہ جاری کرنے اور درنمان کے مضمون کی اشاعت پر پوسٹر شائع کرنے اور بانیان مذاہب کی عزت کے تحفظ کے سلسلے میں قانون کی مناسب ترمیم کے متعلق سند دوستان اور انگلستان میں کامیاب جدو جہد کرنے اور اہالیان کشمیر کے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی خاطر آن انڈیا کشمیر کی تائم کرنے اور پر ضبط اور سرگرمی سے اس تحریک کو پلانے اور فروغ دینے کے سلسلے میں واقدام کئے ان سے حکومت پنچا سکے ایک طبقے کے ذہنوں پر یہ اثر پڑا کہ جماعت احمدیہ نے سیاسیات میں دخل دینا شروع کر دیا ہے اور وہ جماعت کو پہلے سے بڑھ کر شک کی نگہ سے دیکھنے لگے۔ادھر خلافت ثانیہ کے دور میں جماعت احمدیہ کے اندرونی نظام کی مضبوطی بھی ان کے دلوں میں کھٹکتی تھی اور انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔اس جماعتی نظام کے دو پہلو خاص طور پر اس طبقہ حکام کو ناپسند تھے۔ایک تو وہ جماعت کے صیغہ قضا کو جس میں احمدیوں کے باہمی تنازعات فیصلہ پاتے ہیں شعبہ کی