تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 307 of 736

تحدیث نعمت — Page 307

تقرری ان کے سینٹر ہونے کے لحاظ سے ہوئی تھی لیکن منتقل تقرری کیلئے میاں صاحب کی رائے مسٹریام سندرہ کے ستی میں ہے۔مسٹر ریڈ نے مجھ سے کہا اس سے میرے لئے مشکل پیدا ہوتی ہے۔ایک طرف تو میں سر فضل حسین صاحب کیلئے کوئی وقت پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ان کی مرضی کے خلاف اگر میرا نظریہ ہو بھی جائے تو اس سے نہ صرف وہ ہی نا خوش ہوں گے میں بھی آنند وہ رہوں گا۔دوسری طرف اگر میرا مندرہ کو مجھ پر تر جیح دیجائے تو مجھ پر حرف آتا ہے۔اس مشکل کا ایک حل میرے ذہن میں آتا ہے اس میں تمہاری مدد درکار ہے۔میرے دریافت کرنے پر کہا کہ مسٹر با چپائی کا راگست کو واپس آنیوالے ہیں۔اس دن سے وہ سیکریٹری ہوں گے اور جائنٹ سیکر یٹری کا عہدہ خالی ہوگا۔مسٹر رام چندره ۸ راگست سے ۱۹ اکتوبر تک رخصت لینا چاہتے ہیں اس عرصے میں تم وزیر ہو گے اگر تم مجھے در اگست سے جائنٹ سیکریٹری مقرر کر دو تو میں ۱۹ اکتوبر سے رخصت لے لوں گا اور رخصت سے واپسی پر اپنے صوبے میں واپس چلا جاؤں گا۔19 اکتوبر سے مسٹرا مچند رہ جائنٹ سیکریٹری ہو جائیں گے۔میں نے کہا اگر اس طرح آپ کی مشکل رفع ہوتی ہے تو میں خوشی یہ تجویز داٹرائے کی منظوری کیلئے پیش کر دوں گا۔اور مجھے یقین ہے وہ منظوری دیدیں گے۔جب وائسرائے دوسرے سے واپس آئے تو میں نے یہ بات ان سے چھیڑی انہوں نے پوچھا تمہاری کیا رائے قائم ہوئی ؟ میں نے کہا ریڈ شریف طبع افسر ہے۔میں نیا ہوں مجھے ضرورت ہے کہ سیکیہ بیڑی اپنے نوٹ میں معاملے کی وضاحت کر کے اپنی رائے پختہ اور واضح طور پر بیان کرے۔فیصل کر نا بیشک میرا کام ہے لیکن سیکر یٹری کا نوٹ مجھے معاملہ ریہ غور کے حسن وقبیح پر مطلع کرنے والا ہونا چاہیے۔میں نے دیکھا ہے کہ اپنا نوٹ لکھنے سے پہلے سٹریڈ میرا قدریہ معلوم کرنا چاہتے ہیں اور جس طرف میرارہ جھان پاتے ہیں ویسا ہی نوٹ لکھ بھیجتے ہیں جس سے مجھے بہت کم مرد ملتی ہے میرا مندرہ بھی کام کے لحاظ سے غنیمت ہیں ریڈ سے کچھ بہتر ہیں لیکن الیس نمایاں فرق نہیں کہمیں انہیں ریڈ پر ترجیح دینے پہ نوردوں البتہ ایک فوقیت انہیں ضرور حاصل ہے۔میرے قلمدان میں سمندر پار ہندوستانیوں کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے اور کام کی موجودہ تقسیم میں یہ مسئلہ جائنٹ سیکریڑی کے سپرد ہے مسٹر رامچندرہ اس کا تجربہ حاصل کر چکے ہیں میٹر ریڈ کو اس کا تجربہ نہیں۔تاہم اگر مسٹر ریڈ نے میرے ساتھ ہی کام کر نا ہو تا تو میں ان کے ساتھ گزارہ کر دیتا لیکن میں تو ۲۰ اکتوبر کو یہ خصت ہو جاؤں گا۔سرفضل حسین ریڈ کے تقریر کے حق نہیں ہیں۔اگر ریڈ کا نقر ہو بھی جائے تو دونوں کیلئے مشکل ہو گی۔ریڈ نے جو اس مشکل کا حل تجویز کیا تھا وہ میں نے بیان کیا۔پوچھا تم اس پر راضی ہو ؟ میں نے کہا میں راضی ہوں تو فرمایا پھر الیسا ہی لکھ دو۔میں نے کہا اس سلسلے میں ڈپٹی سیکریڑی کا عہدہ خالی ہو گا۔صالح سید ری قائم مقام ڈپٹی سیکر یٹری ہیں قابل اور ہو سہارا افسر ہیں۔آپ متفق ہوں تو ان کا تقرر ڈپٹی سیکر یٹری کے عہدے پر کر دیا جائے، کہا بڑی خوشی ہے۔چنانچہ اس کے متعلق میں نے احکام دیدئیے۔نارڈو لنگڈن کا طرق تھا کہ وہ نہ بانی گفتگومی تجاویہ کی منظوری دیدیتے ہو کچھ طے پاتا اس کے مطابق متعلقہ