تحدیث نعمت — Page 281
٢٨١ ور پھر یہ تعلقات مرور زمانہ کے ساتھ حکم سے محکم تر ہوتے چلے گئے میں توان کی خدمت میں سوائے اخلاص کے کچھ بھی پیش نہ کر سکا لیکن ان کیطرف سے پیہم نوازشوں سلسلہ جاری ہوگی اور انکی زندگی بحران میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ان کے مجھ پر بہت احسان ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جبہ ائے بغیر دے۔انگلستان سے واپسی | عزیز اسد اللہ خاں اور میں لندن سے پریس گئے دو دن وہاں ٹھہرے۔پریس سے سردار سمپورن سنگھ صاحب ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ایک دن نوزان ٹھہرے بیاں سردانہ آنا شا سنگھ صاحب بھی ہمارے قافلے میں شامل ہو گئے۔ایک رات میلان ٹھہرے۔میں سے اطالوی بہانہ پر وار جو کہ بیٹی پہنچ گئے دہلی سازش کیس | میاں سر فضل حسین صاحب نے ایک روز فرمایا کچھ ملزمان پر دلی میں ایک سازش کا مقدمہ چلنے والا ہے جس کی سماعت کے لئے ایک سپیشل ٹریبیونل قائم کیا جائے گا سر جیمز کم پیر رکن داخلہ ) نے مجھ سے کسی قابل قانون دان کا نام پوچھا تھا توحکومت کی طرف سے اس کیس کی پیروی کرسکے۔میں نے اسے تمہارا نام بتایا ہے۔اگر حکومت کی طرف سے تمہیں یہ پیشکش کی جائے توتم اس پر غور کر لیا۔کچھ دنوں کے بعد پنجاب کونسل کے اجلاس کے دوران میں سرڈونلڈ ٹائیڈ نے تو گورنہ کی مجلس عاملہ کے رکن تھے مجھ سے دریافت کیا کہ دتی میں ایک سازش کے مقدمے کی سماعت کیلئے ایک ٹرمینٹل قائم ہونیوالا ہے۔کیاتم بطور رکن ٹرمپیوتل کام کرنا منظور کر لو گے ؟۔میں نے جواب نفی میں دیا۔دو روز بعد پھیلے اور فرمایا مجھے رکتی حکومت کے پیغام کے متعلق غلط فہمی ہوئی تھی۔وہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا تم بطور کراون کونسل کام کرنے پر رضامند ہو اور رضامندی کی صورت میں تمہاری فیس کیا ہوگی ؟ میں نے رضامندی کا اظہارہ کیا اور نہیں تبادی۔چند دن بعد انھوں نے بتایا مرکزی حکومت نے تقریر منظور کر لیا ہے۔ان کا اندازہ ہے کہ تمہیں کیس کی تیاری کے لئے ایک مہینہ درکار ہوگا۔توقع ہے کہ ٹریبیونل مٹی کے شروع میں کام کی ابتداء کر سکے گا اسنے اگر تم اپریل کے شروع میں دلی پہنچ جاؤ تو تمہیں تیاری کے لئے کافی وقت مل جائے گا۔پریل اسلام کے شروع میں میں مقدم رساندن کی تیاری کیلئے دلی چلا گیا۔پرانی دلی میں سوس ہوٹل میں قیام کیا اس ہوٹل کے کمرے کشادہ اور آرام دہ تھے۔گرمیوں میں گرمی سے آپ کش رہتی تھی جب میں مقدمہ کے واقعات پر مصور حاصل کر چکا تو میں نے سرجمیں کرنی کو مشورہ دیا کہ اس مقدمے کیلئے ٹربیونل قائم کر نامناسب نہیں ملزمان میں کثرت ایسے نوجوانوں کی ہے جن سے کوئی نہ کوئی جرم سرزد ہوا معلوم ہوتا ہے۔لیکن صرف دو تین ہی ایسے ملزم ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سازش میں شریک تھے اور ان کے خلاف کسی وقوعہ میں شامل ہونے کی کوئی شہادت نہیں۔ن میں سے ایک کے متعلق خود استاد تسلیم کرتا ہے کہ ایک مرحلے پاس نے سازش میں شرکت ترک کر دی تھیں۔ان دو تین ملزمان پر فرد جرم عاید کئے جانے کیلئے استغاثہ نہ ور نہیں دے سکے گا۔اور اگر زور دے بھی تو ٹر میمونل غالبا فرد حریم عاید نہیں کرے گا۔میری رائے تھی کہ سازش کا الزام ترک کر کے تو جرم ہر ایک سے صادر ہونا بیان