تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 275 of 736

تحدیث نعمت — Page 275

۲۷۵ بہن کا خاوند بیوی کی بہن کا خاوند ، پنجابی زبان میں ان سب رشتوں کے لئے الگ الگ لفظ ہیں یہی حال UNCLE اور AUNT کا ہے ، باپ کا بھائی ، ماں کا بھائی، پھوپھی کا خاوند، نالہ کا خاوند انگریزی نی بان میں سب UNCLE ہیں۔پنجابی اور اردو زبان میں علی الترتیب۔چچا ، ماموں ، پھوپھا اور خالو ہیں۔اسی طرح AUNT پھو بھی خالہ ماچی اور ممانی ہیں۔بھائی کے لفظ کے اطلاق کے متعلق اصول یہ ہے کہ جو شخص مورث مشترک کی نرینہ اولاد کے سلسلے میں اسی پشت میں ہے جھیں میں ہوں وہ میرا بھائی ہے۔جو مجھ سے ایک نشبت وہ ہو مجھ وہ اوپر ہے وہ چاہے کیونکہ میرے والد کا بھائی ہے۔تو مجھ سے ایک پشت نیچے ہے وہ میرا بھتیجہ ہے کیونکہ میرے بیٹوں م کا بھائی ہے۔اب آپ مجھے اجازت دیں تو میں شہادت آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔آپ شجرہ نسب سامنے رکھ کہ دیکھتے جائیں کہ شہادت اور شجرہ نسب میں نظامی ہے یا نہیں۔جیسے جیسے میں شہادت پڑھتا گیا ہر فقرے کا شجرہ نسب کے ساتھ مطابق پا کر مجھ صاحبانی بہت محظوظ ہوتے گئے۔سر جارج لاؤنڈ نہ اور سر لانسپلانٹ سانڈرسن نے تو میری تائید بھائی کے مفہوم کے متعلق بھی کردی تھی اب لارڈ لیز برگ نے بھی کہنا شروع کیا۔OH, HOW FASCINATING! HOW INTERESTING ! ON PREY GO ON جس سے مجھے بہت حوصلہ ہوا۔بحث جاری رکھتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ فاضل ججان ہائی کورٹ نے شجرہ نسب کو اسی بنا پہ سر کیا ہے کہ اس میں چند اندراجات کی تحریمہ اس تحریرہ سے مختلف ہے جو شاہ نواز الدین کی تخمیہ بیان کی جاتی ہے۔نیز اس میں ایسے لوگوں کی پیدائش اور وفات کے اندرا حجات ہیں جو شاہ نواز الدین کی وفات کے بعد پیدا ہوئے یا فوت ہوئے۔یہ دونوں باتیں درست ہیں۔لیکن جان ہائی کورٹ نے ان سے غلط نتیجہ اخذ کیا ہے۔جو اندراجات شاہ نواز الدین کی قلم کے نہیں ہیں وہ رہی ہیں جن کے درج کرنے کا موقعہ شاہ نواز الدین کی دونا کے بعد پیدا ہوا۔اس بات سے تو شجرہ نسب کے صحیح ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔اگر یہ اندراجات بھی اسی قلم سے ہوتے جس قلم سے باقی اندراجات ہیں تو یہ یقینی ثبوت اسبات کا ہوتا کہ شجرہ نسب شاہ نواز الدین کا تیار کردہ نہیں۔جو لوگ شاہ نواز الدین کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ان کی پیدائش کے اندراجات شاہ نواز الدین کے قلم سے نہیں ہو سکتے تھے وہ کسی اور کے قلم سے ہیں۔معلوم ہوتا ہے شاہ نواز الدین کی وفات کے بعد خاندان کے کسی دیگر قرد یا افراد نے وقتاً فوقتاً پیدائشوں اور اموات کے اندراجات شجرہ نسب میں درج کئے ہیں۔تاکہ شجرہ نسب کی تکمیل ہوتی رہے۔لارڈ میکملن۔یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔خاندانی بائیل میں وقتا فوقتا ایسے اندراجات کر دیے جاتے ہیں۔تا کہ خاندانی شجرہ نسب مکمل رہے۔ظفر اللہ خان - جناب عالی به بانی شهادت بیشک بہت حد تک سماعی ہے لیکن ایک دو پشتوں کے عبور سیاگی