تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 257 of 736

تحدیث نعمت — Page 257

۲۵۷ میرے عزیز دوست ڈاکٹر آسکر بر ظلم کی یہ مائش بھی میرے قریب ہی تھی۔ان کا مشورہ بھی بعض امور میں میرے نئے مفید ثابت ہوا۔کبھی فرصت کی گھڑی میسر آتی تو می ان کے ساتھ گزاریا۔سارا دن ملاقاتوں، مجالس میں تقریروں اور نوٹ لکھوانے میں صرف ہوتا۔بہت سی سرکاری اور غیر سرکاری شخصیتوں سے ملنے کا موقعہ میر آیا ان دونوں پہلے لارڈ سہنا پر بیوی کونٹ میں جج تھے۔اور لندن میں مقیم تھے۔ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔بڑی مہربانی سے پیش آئے سیاسی مستقبل کے متعلق فرمایا۔میاں میں تو ان لوگوں میں سے ہوں کہ اگر آن انگریز اعلان کردیں کہ ہم ہندوستان کو چھوڑتے ہیں۔تومیں گھٹنوں کے بل گر کر ان سے التجا کرد کہ القیامت کرو۔اس مرتبہ مجھے رائٹ آن میل سید امیر علی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔بہت ضعیف ہو چکے تھے۔سیکیسی کے علاقہ میں ایک مکان میں مقیم تھے جو ان کے چھوٹے مابزار سید طارق امیر علی صاحب کی ملکیت تھا۔سید طارق امیر علی اپنے محترم والد کی طرح کلکتہ ہائی کورٹ کے بھی ہوئے اور وہاں سے پیشن پا کر وزیر سند کے مشیر قانون ہوئے۔سید امیر علی صاحب نے خاکسار کو دوپہر کے کھانے پر مدعو فرما یا اور بڑی شفقت سے پیش آئے سارا وقت گفتگو اردو میں رہی فرمایا تمہارا MOOT میں بحث کرنا ہمیں یاد ہے۔میرے لندن کے کام کے متعلق بہت مفید مشورے دیئے۔میرا دل ان کی صحبت سے جذبات شکر کے ساتھ برینہ لوٹا۔وہ ہ میں فوت ہوئے۔اسلام کا درد رکھتے تھے۔اسلام کی اورمسلمانوں کی سنهایت مخلصانہ اور بڑی قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔فجزاه الله ونیز ولد في رحمته بشهر محمدی با تاریخی اسلام اور اسلام کی تعلیم پر اپنی بیش بہا تصانیف اپنی باد گاہ تھوڑے گئے۔میں ہر صبح پہلے دن کی ملاقاتوں اور تبادلہ خیالات کا خلاصہ نوٹ کروا دیا تھا۔جہاں تک مجھے یا دیر تا ہے میں نے صرف اس موقع پر باقاعدہ ڈائری رکھی۔ہندوستان واپسی پر میں نے یہ نوٹ میانی فضل حسین صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔اس سفر میں میں اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوا جو میرے گیا تھا اس کا تو میں اندازہ نہیں کر سکتا لیکن خود میرے لئے یہ تجربہ بہت فائدے کا موجب ہوا۔سائمن کمشن کا تقریر میں بھی ان کا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ن کے تار کا اعلان ہوگیا۔سرجان من دسپر مین ) کے علاوہ میجر کلیمنٹ اٹلی میبر پارلیمنٹ کی کمیشن کے ایک ایسے رکن تھے بو لحد میں پبلک ذمہ داری کے اونچے منصب پر فائز ہوئے ا ء میں وزیر اعظم ہوتے ہی انہوں نے ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کیا۔اور عین دو سال بعد اس اعلان کی تکمیل ہوگئی۔کمشن کے اراکین میں کوئی ہندوستانی شامل نہیں تھا۔اس فرد گذاشت کی وجہ سے ہندوستان کے ہر طبقے کی طرف سے سخت مایوسی کا اظہار کیا گیا۔اور جب کمشن عملہ اور پھر شاہ میں ہندوستان آیا تو ہر جگہ کشن کے خلاف مظاہرے کئے گئے۔بعد میں حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ کشن کے ۱۹۴۵