تحدیث نعمت — Page 256
۲۵۶ مسٹر ساہنی۔لیکن جناب عالی اس صورت حال کا تو خاوند کو پلے سے علم تھا جیسے اس کی رخصت کی درخواست سے ظاہر ہے۔یہ صورت تو عرصے سے چلی آرہی تھی پھر یہ اشتعال کیسے ہوا ؟ مسٹرسٹس آغا سیدر - مسٹر ساہنی آپ نے ضرور سنا ہے کہ آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔یہ صورت حال اتنی لمبی ہوگئی کہ اس شخص کی حد برداشت سے باہر ہو گی۔میرے نزدیک یہ تحریم اشتعال کے نتیجے میں ہوا۔در دو سال قید با مشقت قرین انصاف ہوگی۔بیچارے مسٹر ساہنی ! اکثر تو وہ اس حد تک سختی کی حمایت کرتے کہ جج صاحبان دق آجائے۔اور اس کیس میں یہ کیفیت تھی کہ جب ان کا موقف خالص قانونی لحاظ سے قابل التفات بھی تھا تو جج صاحب ان کی بہت پر غور کرنے کو تیارنہ تھے۔ان کی رائے تھی کہ ایک منظوم خاوند نے ایک عام کو کیفر کردار تک پہنچایا۔اس نے خوب کیا۔قانونی کہتا ہے یہ جرم ہے۔بہت اچھا جرم ہی سہی لیکن عقوبت کی مرحوم کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیئے حقیقی انصاف کا یہی تقاضا ہے۔سفر انگلستان | عشرہ میں پنجاب کونسل کا بیٹ کا اجلاس نوا ہور میں ہوا اور دوسرا اجلاس گزریں میں شعلے میں ہوا۔اس وقت تک یہ طے ہو چکا تھا کہ شہداء میں حسیں شاہی کمیشن کے تقریر کا وعدہ کیا گیا تھا کہ آئینی 1969 اصلاحات کے عملی تجربے کے دس سال بعد مقر ہوگا اس کا تقریر شاہ کے آخری مہینوں میں ہو جائے گا۔اس کے پیش نظر پنجاب کو نسل کے مسلم اراکین نے فیصلہ کیا کہ ان کا ایک نمائندہ انگلستان جائے اور وہاں اراکین پارلیمنٹ اور دیگر اہل الرائے اصحاب سے ملکہ ہندوستان کے آئیندہ آئینی دستور کے متعلق مسلمانوں کا نقطہ نگاہ ان پر واضح کرے۔یہ تجویز میاں سر فضل حسین صاحب کی تھی اور آخر انہی کے مشورہ سے اس خدمت کو سرانجام دینے کیلئے مجھے منتخب کیا گیا۔میاں صاحب اس سال لیگ آف نیشنز کی اسمبلی کے اجلاس کے لئے ہندوستانی وفد میں تشریف لے جانیوالے تھے۔میں ایک اطالوی جہانہ میں نیپلز گیا۔ایک دن وہاں ٹھہر کر اور علاوہ دیگر مناظر کے پمپی آئی کے عبرت انگیز کھنڈرات دیکھ کر روم گیا۔تین دن دہاں ٹھہرا۔نصف دن پا پیادہ اور نصف دن ایک ٹورسٹ ایجنسی کے نظام کی سرپرستی میں اس قریباً تین ہزارسال سے متواتہ آباد شہر کے تاریخی مقامات کی سیر کی۔روم سے جنیوا گیا۔میاں فضل حسین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہدایات حاصل کیں۔جنیوا سے لندن پہنچا۔ڈاکٹر شفاعت احمد خانصاحب پرپی کونسل کے مسلم اراکین کے نمائندے کی حیثیت میں لندن پہنچے ہوئے تھے۔ان سے تعار ہوا۔رہائش کیلئے مجھے سیز وائر کے علاقے میں دو عمدہ کمرے میسر آگئے۔اور حسن اتفاق سے ایک با سلیقہ عمدہ تربیت یافتہ نو د نویس ٹائپسٹ کی خدمات بھی میسر آگئیں۔ان دنوں لندن میں مسجد احمدیہ کے انچارج مولانا عبدالرحیم درد صاحب تھے۔ان کا پورا لتعاون بھی مجھے حاصل رہا۔ان کی مشفقانہ تو جہ سے مجھے اپنے کام میں بہت مدولی "