تحدیث نعمت — Page 233
۳۳۳ ایک دور تھا۔چوتھے عشرہ کے وسط میں وہ دور بدلنا شروع ہوا اور بہت جلد مقیات ہند ایک نئے انقلابی دورہ میں داخل ہو گئی۔1970 میاں سر فضل حسین صاحب | میاں سر فضل حسین صاحب ہ سے ا ء تک بطور وزیر اور بطور مبر عامہ حکومت پنجاب میں سرگرم عمل رہے۔نسلہ سے شام تک حکومت ہند میں وائسرائے کی مجلس عاملہ کی زنیت رہے مئی سند میں جب وہ پنجاب واپس لوٹے تو صحت کی یہ حالت تھی کہ سانس کی بیا دشوار تھا۔میں یاس کی بنا پر نہیں بلکہ اتنی پختہ مل کی بنا پر کہ سکتاہوں کہ وہ ہرگز ہرنہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی نحیف ناتوان جا کو تیسری بار بالکل بدلے ہوئے حالات میں وقف ریخ دمحمن کے ہیں۔لیکن پرانے رفقاء میں سے بر سر اقتدار عنصر ن شروط پیش کی کہ اگر ان کی قیادت اس مرحلے پر میسرنہ ہو گی تودہ بھی خدمت عامہ سے دست کش ہو جائیں گے۔ان سے بہ اصرار کیا گیا کہ وہ قوم کی ضرورت کو ذای آرام پر تر جیح دیں اور پرانے رفقاء کو اپنا مہمانی ہے محروم نہ فرمائیں۔میاں صاحب خوب جانتے تھے کہ یہ شرط اور یہ دعوی اخلاص و وفا ہاتھی کے دانت نہیں۔انکی ڈائری کے اندراجات اس پر ہی میں لیکن میرا علم ان کی ڈائری سے حاصل کردہ نہیں بلکہ خودان سے حمل کیا ہوا ہے۔لیکن وہ آخرہ فضل حسین تھے۔جانتے ہوئے کہ یہ دعوت محض قریب ہے۔آپ نے اسے قبول فرمایا۔شاید یہ بھی خیال ہو کہ اس کے پردے میں ہو چال چلی جا رہی ہے آپ اس کا تدارک فرما سکیں گئے لیکن قومی اور استعدادیں سب تخدمت قوم میں صرف ہو سکی تھیں۔پندرہ سال سے ایک سانس کے بعد دو سر اسانس مہیشہ کل ہو رہا تھا۔آخری چند سالوں میں بہت کم اب اتفاق ہوا کہ ہفتہ بھر لگاتار درجہ برماله الينا اعتدال پر رہا ہو۔پیمان عمر لبریز ہوچکا تھا۔واعلی اجل کو لبیک کہا۔اور جبان جبان آفرین کو سپرد کر دی غفر اللہ لہ بہ حمتہ۔اس پندرہ سال کے عرصے میں پنجاب اور ہندوستان نے بہت مخلص خادم ملت پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل ور حم سے ان سب کی سعی مشکور فرمائے۔اور انہیں سجائے جبریل عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے وافر حصہ بنتے آمین۔اگر آج قوم میں نہ ندگی کے آثار نظر آتے ہیں۔اور قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔تو یہ تمام واجب الاحترام تعادمان ملت کی مساعی اور ان کی مسلسل قرنوں کا کمرہ ہے۔میاں سر فضل حسین صاحب اس گروہ میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور ۱۱ تا ۱۹۳۶ کے دورہ میں ان کی تعمیری خدمات مسلمانان ہند کے لئے عموماً اور سلمانان پنجاب کے لئے خصوصاً ان کے مستقبل کے لحاظ سے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔اس صدی کے چھٹے اور ساتویں عشرے کے سیاسی نقاد اور مورخ بھول جاتے ہیں۔کہ صدی کے آغانہ میں سلمان با وجود پنجاب میں اکثریت رکھنے کے دردسری قوموں کے مقابلے میں صوبے میں کیا حیثیت رکھتے تھے۔اور صوبہ پنجاب صوبجات ننگال