تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 232 of 736

تحدیث نعمت — Page 232

۲۳۲ میں کثرت مسلمانوں کی تھی۔لیکن ہندو اور سکھ بھی اس میں شامل تھے۔اگر چہ یہ پارٹی دیہاتی پار ٹی شمار کی جاتی تھی اور اس میں شک نہیں کہ صوبے کی دیہاتی آبادی کی خوشحالی کو فروغ دنیا اس کے مقاصد میں شامل تھا لیکن اس کا اصل مقصد صوبے کی آبادی کے نام مزدور اور پسماندہ ناصر کی خوشحالی کو ترقی دنیا تھا۔ان عناصر میں دیہاتی آبادی رعیسائی، ہندو، سکھ ، مسلمان) کا سب سے بڑا حصہ تھا۔مسلمان من حیث القوم دیگر اقوام کی نسبت کمزور اور پسماندہ تھے۔میاں سر فضل حسین صاحب کی دور بینی دور اندیشی اورسیاسی سوجھ بوتھ کانتیجہ تا کہ یہ تجویز نہیں سو بھی جو کارگر ہوئی۔ظاہر ہے کہ دو عمل کے دور میں اگر چہ تعلیم ، صحت ، زراعت ، سینکلات بلدیات، وغیرہ کے محکمے وزرا کے سپرد کر دیے گئے تھے۔لیکن امن عامہ اور مالیات کے نہایت اہم محکمے معہ چند دیگر محکمہ جات کے محفوظ ر کھے گئے تھے اور ان کا الحرام میران عاملہ کے سپرد تھا جو کلیہ گورنہ کے ماتحت تھے علاوہ ان میں گورنہ کو وزراء کے محکموں کی نگرانی کے متعلق بھی بعض اختیارات حاصل تھے۔اس صورت حالات میں گور نر اور مہران عاملہ کی نگاہ میں وہی وزراء حقیقتا قابل قدر سمجھے جاسکتے تھے اور انہی کی ہے کو وزن دیا جاسکتا تھا نیکو مجلس قانون سانہ میں اکثریت کی تائید اور حمایت حاصل ہو۔تعمیری محکمہ جات کو خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ چلانے اور انہیں رفاہ عامہ کو فروغ دینے کا آلہ بنانے کے لئے علاوہ دیگر عوانہ مات کے روپے کی ضرورت تھی۔اور خدا نے پہ اختیار وزراء کا نہیں میر عالمہ کا تھا۔اسلئے لازم تھا کہ میاں سر فضل حسین صاحب کو اپنے تعمیری منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے مجلس قانون سانہ کی تائید حاصل ہوں۔اس وقت کے حالات کے ماتحت یونینسٹ پارٹی کا قیام ایک سیاسی شاہکار تھا۔اس پار ٹی پر نہ توبہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ یہ فرقہ وارانہ پا رہی ہے۔اس لئے اس سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ یہ صوبے کے دوسرے فرقوں کے حقوق کا تحفظ کر سکے یا ان کی موثر نمائندگی کر کے اور نہ ہی یہ اعترامن ہو سکتا تھا کہ یہ ایسی اقتصادی پیار کی ہے جو شہرمی طبقہ کے خلاف ہے اور ان کے حقوق کی طلفاف کی اس سے توقع نہیں ہو سکتی۔علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اپنی سہ سالہ درکنیت محلس کے دوران میں اس پارٹی کے رکن رہے۔شیخ مر عبد القادر صاحب ، شیخ دین محمد صاحب اور کئی دیگر معزز بین شہری طبقہ میں سے وقتاً فوقتاً اس پارٹی کے قابل احترام رکن رہے۔جن حالات میں اس پارٹی کا قیام عمل میں آیا اور جو کام اس نے کر دکھلایا ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا جائزہ لیا جائے تو ہر صائب غیر جانبدار رائے یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گی کی مبین سال کے عرصے میں صوبہ پنجاب اگر ہندوستان کے ایک پسماندہ صوبے کی حیثیت سے بڑھ کر ایک ترقی یافتہ صوبہ شمارہ ہونے لگا تو اس قلب ماہیت کی داد کی مستحق یونینسٹ پارٹی تھی۔اور اس پار ٹی کی بنیاد رکھنے والے اور ر درج کر والد میاں سر فضل حسین صاحب پر پنجابی کے مخلصانہ شکریہ کے مستحق تھے۔فجزاہ اللہ۔آج کے کئی نخود ساختہ مورخ اس سادہ حقیقت کو نظر اندازہ کئے ہوئے ہیں کہ بیسویں صدی کا تیسرا اور چوہ تھا عشرہ