تحدیث نعمت — Page 167
142 لکھنو میں مہاراجہ صاحب ) اسی رات پٹنہ سے روانہ ہو کہ دوسرے دن سید العام الله محمود آباد کی خدمت میں حاضری | شاہ صاحب اور میں لکھنو سپنے سید سجاد حیدر یلدرم شاہ لکھنے صاحب کے ہاں قیام کیا۔وہ ان دونوں مہارا یہ صاحب محمود آباد کے پرائیویٹ سکریٹری تھے۔مہاراجہ صاحب نے اند راہ عنایت کھانے پر مدعو فرمایا اور ملاقات کا شرف بخشا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں شاہانہ مزاح اور یہ خلق عطا فرمائے تھے۔میری کیا حیثیت تھی وہ بادشاہوں کے عمبر تھے لیکن نہایت اکرام سے پیش آئے جناب ڈاکٹر علی نقی صاحب خلف الرشيد | شمس العلماء مولانا سید میر حسن صاحب کے شمس العلماء مولوی میر حسن صاحب بڑے صاحبزادے ڈاکٹر علی کلفتی صاحب فوجی ڈاکٹر تھے اور ان کی رجمنٹ ان دنوں لکھنو میں تھی۔وہ میرے بڑے کریم فرما تھے۔دس سال قبل کر نل پریسین سول سرجن بھاؤنی سیالکوٹ نے میری دائیں آنکھ کے پیوٹے کا اپریشن کیا تھا۔ڈاکٹر علی نفتی صاحب کی تعیناتی ان دنوں بچھاؤنی سیالکوٹ میں تھی۔اپریشن کے بعد مجھے اپنے رجمنٹل کالا میں لے گئے تھے اور جب تک مجھے صحت ہوئی اپنا مان رکھا تھا۔اور بڑی شفقت سے بغیر گیری فرماتے رہے۔وہ میرے والد صاحب کے دوست تھے اور سید انعام اللہ شاہ صاحب کے عزیز اور بزرگ تھے۔ہم دونوں کھو چھاؤنی میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔بہت شفقت اور تواضع سے پیش آئے۔پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب بنے ہو تعریفی کلمات میری نسبت فرمائے تھے وہ اخبارات میں شائع ہو گئے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے بھی پڑھے۔مجھ سے فرمایا ہم تو تمہیں بچپن سے جانتے ہیں اللہ تعالٰی نے تمہیں ذہانت اور فراست عطا فرمائی ہے۔بہت ترقی کرو گے لیکن افسوس ہے کہ تم نے دینی لحاظ سے اپنے آپ کو ایک نہایت تنگ حلقے میں محدود کر لیا ہے۔اس لحاظ سے تم ایک قیدی ہو کر رہ گئے ہور میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں بڑے ادب کے ساتھ خواجہ حافظ شیرانی کے الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ ے عقل گرداند که دلی در بند ز لفش چون خوش است عاقلان دیوانه گیر دندانہ بیٹے زنجیر ما خان بہادر محمد حسین صاحب | ایک دن لکھنو ٹھہر کریم کا نور گئے اور چند گھنٹے خان بہادر میشن حج کا نیور محمد حسین صاحب سیشن ج لر والد محترم ڈاکٹر محمد سیم صاحب بریسٹر ایٹ لاء) کے ہاں قیام کیا۔سید انعام اللہ شاہ صاحب نے مجھے آگاہ کر دیا تھاکہ خان بہادر صاحب کے ہاں سالن میں بہت تیز مرچ استعمال ہوتی ہے۔چونکہ مجھے مرچ کھانے کی عادت نہیں تھی لہذا انہوں نے مشورہ دیا کہ میں خان بہادر صاحب کی خدمت میں ذکر کردوں۔میں نے ایسا ہی کیا۔خان بہادر صاحب