تحدیث نعمت — Page 158
۱۵۸ مطعم کی تلاش شروع ہوئی ایک سوڈالیمین کی دوکان پر میمون جو سلوک ہندو دوکاندار کی طرف سے ہمارے ساتھ مردانہ کھا گیا اس سے ہمیں یقین ہو گیا کہ اس مشترک ہندو شہر میں ایک مسلمان مسافر عزت نفس قائم کر کھتے ہوئے اپنی سادہ ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا۔ہم سٹیشن واپس جانے والے تھے تا کہ وہاں جاکر معلوم کریں کہ وہاں کوئی ریفرشمنٹ روم ہے یا نہیں جہاں کھانامل سکے کہ ہمیں ایک مسلمان نانبائی کی دوکان نظر آئی۔سید انعام اللہ شاہ صاحب کی طبعیت شدت اشتہا سے بے قابو ہو رہی تھی لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ مزید انتظار کی زحمت نہ اٹھائی جائے۔اور جو کچھ بھی میسر ہو اسے بصد شکر قبول کیا جائے۔یوں تو سید النعام اللہ شاہ صاحب بہت خوش نوید تھے لیکن ساتھ ہی بھوک برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے کھانے کی اشتہا انہیں بے چین کر دیتی تھی۔کھانے سے فارغ ہو کر ہم شہنشاہ اور رنگ تہذیب کی مسجد کی نہ بارت کو گئے اور تھوڑی دیر شہر میں گھوم کر چھاؤنی کے سٹیشن پر واپس آگئے بعصر کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر رات ہوتے ہم الہ آباد پہنچے۔پدرم سنین صاحب نے ہماری رہائش کا انتظام مسٹر کر یوال کے نکلے پر کیا ہوا تھا۔وہ بھی میری طالب علمی کے زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم تھے۔ہمارے کھانے کا انتظام پیم سین صاحب کی مختصر رہائش گاہ میں تھا۔مسٹر یاد حسین حسینی تھے اور ان کے والد اور گھر کے لوگ جین مت کے ہم ورواج کے پورے پابند تھے۔ان حالات میں ان کا ہمیں اپنے ہاں کھانے کیلئے مہمان کرنا حد درسیہ کے اخلاص اور عنایت کا ثبوت تھا۔کھانا تو وہی تھا جو ایک مبینی گھرانے میں تیار ہوتا۔اسلئے سید انعام اللہ شاہ صاحب جیسے خوش خور کیلئے یہ دو دن سخت آزمائش کے دن ثابت ہوئے ہوں گے۔قمر در دیش به جان در ویش والی کیفیت تھی۔چونکہ مسٹر یادم حسین نے ہمارے قیام کے دوران اپنا سارا وقت فارغ رکھا تھا کہ ہمیں الہ آباد کی سیر کرا دیں اور تمہیں کوئی وقت اکیلے نہ گزارنا پڑے۔اور وہ سارا وقت ہمارے ساتھ رہتے تھے۔اسلئے سید العام اللہ شاہ صاحب کو یہ موقعہ تھی نہیں ملتا تھا کہ کہیں نان کباب کے نقل کی تلاش کر لیں۔میں ان کے چہرے سے ان کی اندرونی کیفیت کا اندازہ کر سکتا تھا۔لیکن اس کا علاج میرے لسی میں نہ تھا۔مجھے ان کی حالت پر رحم بھی آتا اور ان کے پہرے و دیکھ کہ ہنسی بھی آئی۔ایک سہ پر تم گنگا، جن کا سنگھم دیکھنے گئے۔ریل کے پل کے نیے ہم جن کے گھاٹ پر کشتی میں سوار ہوئے۔ہم کل کچھ افراد تھے اور ساتواں کشتی بان سیسنگھم کی سیر بہت پر لطف رہی جمنا کا پانی بالکل صاف ہے اور گنگا کا مٹیالا سنگھم سے کچھ دور نیچے تک دونوں دریاؤں کے دھار سے الگ الگ نظر آتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک دو سے میں مل جاتے ہیں۔ہمارے واپس جمنا