تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 157 of 736

تحدیث نعمت — Page 157

104 سید حید ر امام | سوموالہ کا باقی وقت فراعت کا تھا۔سہ پہر کو ہم مراد پور کے بڑے بانوالہ میں سے بھا رہے تھے کہ نینگ منتر انسٹی ٹیوٹ کے سامنے سے گزر ہوا۔ایک نظر دیکھنے کے لئے اندر پچلے گئے وہاں سید مہدی قلی صاحب اور سید حیدر امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔سید جیدہ امام صاحب ، سید اشرف امام صاحب کے اکلوتے فرزند اور خان بہادر سید فضل امام صحاب کے پوتے تھے سید فضل ام جب نواب سید مراد اما اثرہ کے برادر اکر تھے جو رسید علی امام اور سید حسن امام صاحبان کے والد بزرگوار تھے۔سید حیدر امام صاحب ان دنوں ابھی کالج میں تحصیل علم کر رہے تھے لیکن اپنے والدین کی واحد اولاد ہونے کے باعث خاندانی امورہ کے انصرام میں ان کا بہت کچھ دخل تھا اور ابھی سے حرم و احتیاط اور معاملہ فہمی ان کی طبیعت کا جنم دین پچکے تھے۔مزاج بیشک امیرانہ تھا لیکن سادگی اور تواضع شعار تھے۔اسی رات سید العام اللہ شاہ صاحب اور میں پٹنہ سے روانہ ہو کہ دوسرہ کی صبح بنارس پہنچے۔چھاؤنی کے اسٹیشن پر گاڑی سے اترے۔یہاں کسی سے واقفیت یا شناسائی نہ تھی کرائے کے ایسے پر شہر گئے۔یہاں کے اکتے پنجاب کے اکتوں کی نسبت سادہ قسم کی سواری تھے اور سبک رفتار تھے پنجاب میں اسے صرف کچی سڑکوں پر استعمال ہوتے تھے۔دلی اور یو پی میں اگر شہری سوالہ کی تھی۔اسلئے یہاں کے اسکے ملکی ساخت کے تھے گو نشستوں کا طریق دونوں میں ایک ہی تھا۔شہر میں پہنچ کہ گھاٹ پر گئے اور کشتی کرایہ پر لیکہ دریا کی سیر میں کچھ دقت صرف کیا۔دریا سے شہر کا منتظر بہت پھیلا معلوم ہوتا تھا۔گو شہر کے بانداروں اور گلی کو پچوں میں پھرتے ہوئے شہر کی کوئی مخصوصیت نظرنہ آئی۔لیکن یہ شکار کی بات ہے اور اس کے بعد نصف صدی کے عرصے میں مجھے باریس شہر میں سے گزرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ممکن ہے اس دوران میں شہر کی ہیت میں خوشنما تبد یلی ہو چکی ہو یہ مرکزی حکومت ہند کی وزارت کارکن ہونے کے زمانے میں میں ایک بہانہ بنارس گیا لیکن اس موقعہ پشیر کی ایک جانب سے گذر کر ہندو یو نیورسٹی میں گیا تھا۔شہر کے اندر جانے کا موقعہ نہ ہوا۔دریا کی سیر کے دوران میں سید العام اللہ شاہ صاحب کو کھانے کی شدید اشتہا محسوس ہونے لگی۔دریا کی نچلی طرف بائیں جانب مہارا یہ صاحب بنارس کے خوبصورت محل کا نظارہ نہ دریا کے اوپر کی طرف محبت متظام شہنشاہ محی الدین اورنگ زیب عالمگیر کی بنا کردہ مسجد کے نازک فلک شگان مینانہ ان کی بے چینی کا کچھ بھی مداوا کر سکے، دریا کے کنارے دو ایک بتاؤں پر جو نظر پڑی تو فورا واپس چلنے پر مصر رونے چنا نچہ کشتی بان کو ہدایت ہوئی کہ جلد سے جلد میں گھاٹ پر واپس پہنچا دے۔بازار میں پہنچتے کیا