تحدیث نعمت — Page 154
۱۵۴ کا میں آگئے اور مجھے اطمینان ہوگیا کہ میںاللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے ایک دن کی محنت اور توجہ سے اپنی تباہ کی مکمل کرلوں گا۔سید صاحب نے کمال دور اندیشی سے ضروری کتب فقہیہ اور اور قانون اور نظائر ڈاک بنگلے میں مہیا کر لی ہوئی تھیں۔مجھے کسی لائبریری میں جانے کی ضرورت نہ پڑی کتب قانون اور نظائر انہوں نے خورشید حسین صاحب سے حاصل کی تھیں۔سید صاحب نے اطمینان دلایا کہ ضرورت پڑنے پر خورشید حسین صاحب مزید کتب وغیرہ مہیا فرما دیں گے۔ہم مہفتہ کے روز پٹنہ پہنچے تھے۔واقعات کے متعلق تو میری تیاری اسی روز مکمل ہو گئی فقہ اور قانونی مسائل کے متعلق حوالہ جات کا دیکھنا باقی رہ گیا۔اس کے بعد تیاری کا سب سے ضروری حصہ خالصہ میرا کام تھا یعنی دلائل کا نہ تیب دنیا اور اس ترتیب کا نوٹ کرنا۔اسی دن میں سیدہ وزارت حسین صاب کی معیت میں خورشید حسین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مختصر طور پر تبادلہ خیالات کیا۔ان سے دو ایک مفید باتیں بھی معلوم ہوئیں۔ایک تو انہوں نے بتایا کہ منظر الحق صاحب نہ یادہ نہ فوجداری کام کرتے ہیں۔دیوانی کام میں انہیں زیادہ دلچسپی نہیں۔سید فخر الدین صاحب کے متعلق بتایا کہ وہ بہت قابل وکیل ہیں اور دیوانی کام کا انہیں بہت تجربہ ہے۔لیکن انہیں بحیثیت گورنمنٹ پلیڈر سرکاری کام کی طرف استقدر توجہ کرنی پڑتی ہے کہ وہ اس مقدمے میں باقی وکلاء کے ساتھ صرف بطور عام مشیر کے شامل رہے ہیں۔خود انہوں نے تیاری میں کوئی حصہ نہیں کیا۔اور بحث میں بھی کوئی حصہ نہیں لیں گے۔بحث مظہر الحق صاحب ہی کریں گے۔مقدمہ کی تیاری میں ان کے مدد گانہ سٹرمحمد یونس اور مولوی محمد طاہر صاحبان رہے ہیں اور وہی اجلاس میں بھی ان کے مشیر اور مدد گار ہوں گے۔باقی تین چار وکلاء نے اپنی خدمات اسلئے پیش کر دی ہوئی ہیں کہ ان کے نام بھی ریکارڈ میں شامل ہو جائیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ منظر الحق صاحب اور چیف جسٹس صاحب کے تعلقات گو دوستانہ ہیں لیکن منظر الحق صاحب کی طبیعت کچھ تصنیع کی طرف مائل ہے اور چیف جسٹس صاحب سادگی پسند کرتے ہیں۔ان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مظہر الحق صاحب نے چیف جٹس صاحب کی خدمت میں گذارش کی تھی کہ اس مقدمے میں مجیدہ مفتی اور دینی مسائل پر بحث ہوگی اس لئے مناسب ہو گا کہ مسلمان بچے یعنی مسٹر سیٹس شرف الدین اجلاس میں شامل ہوں۔اس پر چیف جسٹس صاحب نے سید شرف الدین صاحب سے استصواب کیا تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ انہیں جماعت احمدیہ کے عقائد سے سخت اختلاف ہے اس لئے ان کا اجلاس میں شریک ہونا مناسب نہ ہوگا۔تاریخ ساعت کے متعلق بتلایا کہ میں آئندہ ہفتے کی فہرست میں تو درج ہے لیکن ہمارے کیس سے پہلے ہو کہیں درج