تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 148 of 736

تحدیث نعمت — Page 148

۱۳۸ اور ہمارا دوستانہ تعلق ان کی وفات تک قائم کرہا۔وہ نہایت مخلص اور با وفا دوست اور ایک انمول موتی تھے۔ان کی رفاقت اور محبت کا نقش بردم میرے دل میں تازہ ہے اور ہر ر نہ کئی بار مجھے ان کے لئے دعا کی توفیق ملتی ہے۔نشہ میں جب ہم دوسری بارہ ہم جماعت ہوئے تو ہم دونوں سن شعور کو۔۔۔پہنچ رہے تھے بستید افضل علی گو عمر میں مجھ سے دو سال بڑے تھے لیکن شروع سے ہی ان کا سلوک میرے ساتھ الیسا را گویا میں ان سے بڑا ہوں۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔میں احمدی تھا وہ ابتداء میں شیعہ تھے۔لیکن اختلاف عقائد ہمارے دوستانہ تعلقات میں ہار ج نہ تھا۔ان کا مکان مدرسے کے قریب تھا۔تفریح کے وقفے میں ہم ان کے مکان پر جا کہ ظہر کی نماز ادا کرتے تھے شیعہ اصحاب کسی مجتہد بزرگ کی امامت میں نمانہ باجماعت ادا کرتے ہیں ورنہ فرداً فرد آ پڑھتے ہیں۔سید فضل علی صاحب مجھے امام کرتے لکین مانہ میں ہا تھ کھلے پھوڑتے اور سجدہ کے مقام پر خاک شفا رکھ لیتے۔ہم دونوں لاغر بدن تھے۔لیکن ان کا قد مجھ سے بڑا تھا۔ورزش کی گھنٹی میں اکثریم زور آن مانی کرتے جو اس وقت تک جاری رہتی جب تک وہ مقابلہ نہ چھوڑ جاتے۔اس مقابلے کے دوران میں ہم دونوں ہنستے رہتے اور شاید زیادہ مہینے کے سبب ہی وہ مقابلے سے جلد عالیہ آجاتے۔نشہ میں ہم دونوں نے انٹرنیس کا امتحان پاس کیا۔ہماری جماعت میں چالیس طلبا تھے۔ان میں سے صرف آٹھ پاس ہوئے۔خواجہ محمد ابراہیم صاحب لالہ المین چند صاحب اور میں اول درجے میں فیروز الدین صاحب ، عبد الرحمن صاحب، خواجہ رحمت اللہ صاحب اور سید مشتل علی صاحب د ستر درجہ میں اور خانصاحب، احمد دین صاحب تیسرے درجے میں ، ان میں سے لالہ امین چند صاحب اور خواجہ رحمت اللہ صاحب اس سال دوسری بار امتحان میں بیٹھے تھے۔میں نے تو گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا اور سید ۱۹۱ افضل علی سیالکوٹ مرے کالج میں جو اسوقت سکان مشت کا لج کہلاتا تھا داخل ہوگئے، اسی سال انہیں تپ دق کا عارضہ لاق ہو گیا جس میں وہ قریب پانچ سال مبتلا رہے۔جوں توں کر کے 19 میں انہوں نے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور شملہ میں بی اے کیا۔نومبر سہ میں جب میں انگلستان سے واپس آیا تو میرا فضل علی نوز من کرسچن کالج میں بی اے کے امتحان کی بنیاد ہی کر رہے تھے۔ان کی رہائش نیوٹن ہال میں تھی۔دسمبر کے مہینے میں میں اپنے لائنس کے سلسلے میں لا ہور گیا ہوا تھا کہ انہیں دفعتا اطلاع ملی کہ ان کے والد محترم حرکت قلب بندہ ہونے کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں۔وہ نهایت شریف طبع پابند و ضع بزرگ تھے۔میرے والد صاحب کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور میرے ساتھ ہمیشہ بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔ان کی وفات کا صدمہ سید ا فضل علی صاحب کیلئے طبقا نجا نگاہ تھا لیکن ساتھ ہی معاش کے وسائل بند ہو جانے کی دستہ