تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 116 of 736

تحدیث نعمت — Page 116

114 دوران پریشان رہتے اور درس کہ اس نے آپ کے احباب کو اسٹیشن پر جانے کی نہ حمت سے بچا لیا۔میری وانست میں تو اس نے بہت اچھا کیا اور آپ ڈہری مبارکباد کے مستحق ہیں۔ماموں صاحب بھی جب وزیرآباد کے اسٹیشن پہلا ہور سے آنیوالے مسافروں کی پڑتال کرتے کرتے تھک گئے تو جس سہ پہر کو میں سیالکوٹ پہنچا تھا اسی رات کو وہ بھی سیالکوٹ آگئے۔مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور دریافت کیا تم نے دریل میں کس لباس میں سفر کیا۔میں نے کہا اسی لباس میں جو میں اسوقت پہنے ہوئے ہوں رحمتیں ، شلوارہ ، کوٹ ترکی ٹوپی، بہت ہنسے اور فرمایا میں توکسی تر کی ٹوپی اور شلوار پہنے ہوئے داڑھی والے مسافر کی طرف متو یہ ہی نہ ہوا۔میں تو کوٹ پتلون ہیٹ والوں ہی میں تمہیں دیکھتا رہا۔کچھ دنوں کے بعد میں لا ہورہ گیا چیف کورٹ میں پر کیس کی اجازت کیلئے درخواست دی۔سچند دن بعد لائسنس مل گیا۔ایل ایل بی لندن یونیورسٹی کے امتحان کچھ دنوں کے بعد لندن سے ایل ایل بی کے امتحان میں آزرینہ کے ساتھ اول درجہ میں کامیابی کا نتیجہ آیا۔میں نے جلدی سے چھپے ہوئے پرچے پنی نگاہ دوڑائی۔لیکن مجھے اپنا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں نظر نہ آیا۔مجھے حیرت بھی ہوئی اور پریشانی بھی کہ پرچے تو بفضل اللہ اپنے اندازے کے مطابق بہت اچھے ہوگئے تھے۔پھر کیا ہوا ہو میرا نام آمنہ کی فہرست پچھوڑ محض پاس ہو نیوالوں کی فہرست میں بھی نہیں ہے۔نتیجے کے پرچے میں کامیاب امید واروں کے نام بیچارہ در ہجوں میں لکھے ہوئے تھے۔اول دور بجہ آنروز - دوئم در به آنمرند - سوئم در سجده آمدند اور پاس اول درجہ آمدند میں صرف دو نام تھے۔ان کی طرف یا تو میری توبہ نہ ہوئی اس خیال سے کہ اگر یو نیورسٹی بھریں صرف امیدوار ہی اول در بجہ آمیز حاصل کر سکے ہیں تو میر نام ان میں کہاں شامل ہوگا۔یا میں جلدی میں باوجود تمام ناموں پر نگاہ دوڑانے کے میں خیال کرتا رہا کہ اول درجہ میں میرا نام درج نہیں اور میں اپنا نام اس سے نچلے درجوں میں تلاش کرتا رہا۔جب میں نے یہ سمجھ لیاکہ وجہ کچھ بھی ہو میں کامیاب نہیں ہوا تو میں نے نتیجے کے پر چہ کو پھر دیکھنا شروع کیا تا کہ اپنے ہم جماعت طلباء اور بالخصوص مسر محمد حسن کا نتیجہ معلوم کروں اب میں تھے " ** شروع سے نام پڑھنا شروع گئے۔تو سیلابی نام خان تھا۔میں نے سوچا یہ خان کون ہے۔ہماری جماعت میں تو کوئی خان نہیں تھا۔یہ کوئی بیرونی امیدوارہ ہوگا۔اتنے میں میری نگہ پورے نام پر پڑی تویوں لکھا تھا KHAN ZAFRULLA اور میں چونکا کہ یہ تو میرا ہی نام ہے۔میں تو سمجھ بیٹھا تھاکہ میں کامیاب نہیں ہوا اللہ تعالی کا کیا فضل اور کیسی ذرہ نوانہ ہوئی کہ مجھے نہ صرف نہ نہیں اول درجہ عطا فرمایا بلکہ یونیورسٹی بھر میں اول رکھا۔فالحمد لله ثم الحمد للہ یہ ان مواقعہ میں سے ایک تھا اللہ تعالیٰ کے فضل بے پایاں سے میری زندگی میں کئی ایسے مواقع پیدا ہوئے ، جن پر بے اختیار میرے دل سے صدا